مریم نوازکی ضمانت منظور ؛ایک ، ایک کروڑ کے دومچلکے ،7کروڑزرضمانت،پاسپورٹ جمع کرانیکاحکم

لاہور ہائیکورٹ نے چودھری شوگر ملزمنی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز کی ضمانت منظور کرلی۔عدالت نے انسانی بنیادوں پر ضمانت دینے کی درخواست بغیرکارروائی نمٹا دی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کامحفوظ فیصلہ سنایا۔عدالت نے مریم نواز کوایک ، ایک کروڑ کے دومچلکے ،7کروڑ روپے بطور زرضمانت اورپاسپورٹ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل لاہور ہائیکورٹ کے پاس جمع کرانے کاحکم بھی دیا۔عدالت نے 24صفحات پرمشتمل فیصلے میں لکھاخاتون ملزمہ کوقانون میں ضمانت کیلئے رعایت حاصل ہے لہذا مریم نواز کویہ رعایت دی جارہی ہے ،مریم نواز کی جانب سے اپنے والد کی تیمارداری کی درخواست پر زور نہیں دیا گیا،اسی نکتے پر انسانی ہمدردی کی درخواست کو بغیر کارروائی کے نمٹا دیا گیا،عدالت نے فیصلے میں کہا اگر کسی معاملے پرپہلے انکوائری نہ ہو تو دوبارہ انکوائری ہو سکتی ہے ، مریم نوازپرالزام ہے کہ غیرملکی شہری ناصرلوتھانے چاراعشاریہ آٹھ ملین ڈالر مریم نوازکوٹی ٹی کے ذریعے بھجوائے ، یہ رقم چودھری شوگر ملز کے اکاؤنٹ میں بھجوائی گئی مریم کے اکاؤنٹ میں نہیں آئی، چودھری شوگرملزکیس میں کرپشن اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات ہیں جن کی مزید تفتیش درکار ہے ،نیب اپنی تفتیش مکمل کرکے ٹرائل عدالت میں ثابت کرے ۔ نیب کی جانب سے مریم نواز کے فرار کا خدشہ ظاہر کیا گیا، عدالت نے کہامریم نواز کبھی مفرور ہوئی ہیں اورنہ انہوں نے قانون کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا کی ۔یہ سچ ہے معاشرے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹس پھیلی ہوئی جس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے ،عدالت قانونی نکات کومدنظر رکھتے ہوئے اپنی آنکھیں نہیں موند سکتی،گرفتاری کو سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا،عدالت ثبوتوں کے معاملے میں ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی،مریم نوازکے اکاؤنٹ سے نکلوائے گئے 7 کروڑ روپے کے الزام میں پراسیکیوشن کے موقف کو تقویت نہیں ملتی،مریم نواز کے اکاؤنٹ سے 7 کروڑ نکلوانے کا معاملہ مزید چھان بین کا متقاضی ہے ۔ تحریری فیصلہ میں کہا گیا اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی جرم ہو چکا ہے ، منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3 نیب آرڈیننس کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہے ، ٹرائل کورٹ 2 متوازی قوانین کے اطلاق کے بارے فیصلہ کرے گی،پراسکیوشن کا مدعا نہیں تھا کہ یہ رقم غیر قانونی طور پر آئی،پراسکیوشن کی جانب سے ناصر عبداﷲ لوتھا کا پیش کیا گیا بیان وزارت خارجہ سے تصدیق شدہ نہیں تھا، جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو قلمبند کرائے گئے ناصر عبداﷲ لوتھا کے بیان کے دوران ملزم کا موقف نہیں جانا گیا،چودھری شوگر ملز میں دیگر غیر ملکیوں کے بیانات تاحال ریکارڈ نہیں کئے گئے ۔فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت کے احاطے میں موجودلیگی کارکنوں نے بھرپور خوشی کا اظہار کیا،کارکنوں نے شکرانے کے نوافل بھی ادا کئے ۔ صدرمسلم لیگ (ن)شہباز شریف نے ضمانت پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں میں شکر ادا کرتے ہیں ،بیٹی مریم نواز کی ضمانت سے قائد نواز شریف کی تیمارداری کے تقاضے بہترین انداز سے پورے ہوسکیں گی، نواز شریف کی صحت ناساز ہے ،ان کے پلیٹ لیٹس کی کمی کی تشخیص از حد ضروری ہے ، اﷲ تعالی نواز شریف کو صحت کاملہ عطا فرمائے ۔عوام، کارکنان، دوست اور احباب نواز شریف کی صحت کیلئے خصوصی دعا فرمائیں۔کارکنان جشن منانے یا مٹھائیاں تقسیم کرنے کے بجائے صرف دعائیں کریں۔صدرمسلم لیگ (ن)لاہورپرویز ملک ،جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر نے کہااﷲ تعالی کے دربار میں سجدہ شکر ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے مریم نوازکو عوام کے سامنے سرخرو کیا، ضمانت انسانی بنیادوں پر نہیں میرٹ پر ہوئی، حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں جبکہ آزادی مارچ نے حکمرانوں کی نیندیں ڑا دی ہیں۔ واضح رہے نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے دوران کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کیا تھا جبکہ چوہدری شوگر ملز کیس میں ان کے کزن یوسف عباس بھی گرفتار ہیں۔ مریم نواز نے 24 اکتوبر کو والدکی تیما داری کے لیے ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے 31 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔دوسری جانب نیب حکام نے مریم نواز شریف کی ضمانت سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب نے سپریم کورٹ جانے کیلئے نیب لاہور کو گرین سگنل دے دیا ہے اور اس حوالے سے نیب لاہور کی لیگل ٹیم سے مشاورت جاری ہے ۔نیب ذرائع کے مطابق چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، وہ مکمل صحت مند ہیں اور بیمار بھی نہیں، وعدہ معاف گواہ عبداللہ ناصر لوتھا نے بھی شریف فیملی کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کرا رکھا ہے ۔