مطالبات میں آرمی چیف کا استعفیٰ بھی شامل ہے؟

 :جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے گذشتہ روز سوال کیا گیا کہ کیا آپ ڈی چوک کی طرف بڑھیں گے؟۔جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی نہیں کہا کہ ہم ڈی چوک کی طرف بڑھیں گے۔ہم نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہم اپنے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے۔اس وقت ساری اپوزیشن متحد ہیں۔
رہبر کمیٹی نے بھی کچھ تجاویز دی ہوئی ہیں،اس حوالے سے ایک اجلاس بلایا جائے گا جس میں تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی۔بعدازاں ان کو عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ ہم اس جگہ بیٹھے ہوں یا ڈی چوک،لیکن اسلام آباد تو یہی ہے۔اگر ڈی چوک چلے بھی گئے تو اُس اجتماع اور اِس اجتماع میں کیا فرق ہو گا۔
مولانا فضل الرحمن سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کی ڈیمانڈز میں آرمی چیف کا استعفیٰ بھی شامل ہے؟۔
مولانا فضل الرحمن اینکر کے سوال پر ہکا بکا رہ گئے اور انہوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مطالبات میں آرمی چیف کا استعفیٰ شامل نہیں ہے۔
۔ خیال رہے کہ جمیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے یکم نومبر کو آزادی مارچ کے جلسے سے کی گئی تقریر میں کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے دو دن کی مہلت دیتا ہوں۔
اُنہوں نے کہا تھا کہ ہم پُرامن لوگ ہیں اور امن کے دائرے میں ہیں وگرنہ انسانوں کا یہ سمندر اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو گرفتار کرسکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر کئی سیاسی رہنماؤں نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔جب کہ دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کے لیے درخواست دائر کر دی گئ

اپنا تبصرہ بھیجیں