اپنے ٹویٹ میں اظہار مسرت

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے کارکے کیس میں 1.2 ارب ڈالر کی بچت کی ہے، پی ٹی آئی حکومت نے یہ متنازعہ معاملہ ترک صدر کی مدد سے حل کیا، معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ترک صدر طیب اردگان کی مدد سے کارکے تنازعہ کو خوش اسلوبی سے حل کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی کاوش کی وجہ سے آئی سی ایس آئی ڈی میں عائد کردہ جرمانے کی مد میں پاکستان کو 1.2بلین ڈالر کی بچت ہوگئی ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم کے معاون خصوصی قانون دان بابراعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریکوڈک کیس میں اپنا مقدمہ ہار گیا تھا، عالمی ثالثی ادارے کی جانب سے پاکستان پر ریکوڈک میں 6.2 ارب ڈالر جرمانہ ادا کیا گیا تھا۔

لیکن یہ بڑی خوشخبری ہے،کہ عمران خان کے آنے کے بعد ریکوڈک معاملے پر دونوں اطراف رابطے ہوئے ہیں۔ اب سونے کی کان پھر کھل سکتی ہے، ریکوڈک انشاء اللہ چلے گا،کھلے گااور دوڑے گا۔ریکوڈک معاملے پر بیک ڈور ڈپلومیسی شروع ہوگئی ہے۔ریکوڈک بورڈ آف گورنرز سمجھتا ہے کہ پاکستا ن میں شفاف حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہمارا کارکے کا پراجیکٹ لگا ، جس نے فوری بجلی بنانے کاایک پراجیکٹ لا کرپاکستان میں چلا دیا، لیکن کچھ عدالتی فیصلے ہوئے اور یہ پراجیکٹ ناکام ہوگیا۔
کارکے میں پاکستان پر 1.2ارب ڈالرکا جرمانہ عائد ہوگیا تھا۔ کارکے کے پراجیکٹ میں اصولی طور پر ویور طے ہوگیا ہے۔ کارکے کے معاملے پراب جرمانہ ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ اسی طرح وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بلوچستان میں کتنے وسائل ہیں۔میں جب امریکا میں تھا تو مجھے پیغام ملا کہ ریکوڈک کمپنی جس نے سونا نکالنا تھا وہ بات کرنا چاہتا ہے، اس نے بتایا کہ دنیا میں سونے کے ذخائر سب سے زیادہ پاکستان میں ہیں۔
یہ آسانی سے نکالے جا سکتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ہم پاکستان میں دوبارہ کام کرنا چاہتے ہیں ، کیونکہ موجودہ حکومت شفاف ہے۔ہمیں سونے سے اربوں ڈالر مل سکتے ہیں، بلکہ ہمیں ریکوڈک میں پاکستان کو 6ارب ڈالرجرمانہ ہوا۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان میں دوسری کمپنیاں بھی مائننگ کیلئے نہیں آئیں۔سرمایہ کاری نہیں آئی۔کارکے رینٹل پاور کا منصوبہ ہے ، اس میں لوگ کرپشن کی وجہ سے نہیں آئے

اپنا تبصرہ بھیجیں