وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کلب روڈ پر 66 انچ کی سیوریج لائن دھنس جانے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے واٹر بورڈ کو شہر میں تمام پرانی لائنوں کی دوبارہ تعمیر کی ہدایت

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کلب روڈ پر 66 انچ کی سیوریج لائن دھنس جانے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے واٹر بورڈ کو شہر میں تمام پرانی لائنوں کی دوبارہ تعمیر کی ہدایت کرتے ہوئے تمام پرانی لائنوں کو نئی لائنوں کے ساتھ تبدیل کرنے کے لیے منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ۔66 انچ کی یہ سیوریج لائن 1956 ء میں کلب روڈ پر ڈالی گئی تھی جوکہ آج صبح دھنس گئی اور ایک ٹرک اُس میں گر گیا جس کے نتیجے میں صدر کے علاقے میں تمام گٹرز بند ہوگئے اور گٹر بہنا شروع ہوگئے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ فوری طورپر دھنس جانے والے حصے اور لائن کو 24 گھنٹوں کے اندر بحال کریں اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے صوبائی وزیر بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ کلب روڈ سے گلزار علی خان روڈ تا کلفٹن پمپنگ اسٹیشن(بیومنٹ روڈ)تک تمام پرانی لائنوں کو تبدیل کریں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایم ڈی واٹر بورڈ کواولڈ سٹی ایریاز میں پرانی سیوریج لائنوں کو تبدیل کرکے نئی سیوریج لائنیں ڈالنے کے لیے ایک تفصیلی پلان تیار کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ نزد وزیر اعلیٰ ہائوس پر 66 انچ کی سیوریج لائن دھنس گئی تھی جس کی بحالی میں کافی دن لگ گئے تھے ۔ اب کلب روڈ پر لائن خراب ہوئی ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کا بہائو بُرے طریقے سے متاثرہوگا اور لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نئی لائنیں ڈالنے سے سیوریج کا نظام بہتر ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری بلدیات سے ڈی ایم سیز کی جانب سے گاڑیوں کی مرمت سےانکارسے متعلق رپورٹ طلب کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ پہلے ہی تین ڈی ایم سیز کورنگی، غربی اور وسطی اور ڈسٹرکٹ کونسل کو 14 اکتوبر2019 کو 88 ملین روپے جاری کرچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ شہر میں پائیدار بنیادوں پر صفائی چاہتے ہیں اورانہیں یقین ہے کہ متعلقہ ڈی ایم سیز اپنا فعال کردار ادا کرے گی اور اپنے اضلاع کو صاف ستھر ا رکھے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ صوبے بھر میں تمام لوکل باڈیز کے لیے ہدایت جاری کریں کہ وہ اپنے علاقوں میں صفائی ستھرائی کو برقرار رکھیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کچرا جمع ہوجانے کی صورت میں ضلعی میونسپل کمیٹیوں ، کارپوریشنز اور ضلعی کونسل کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے خصوصی مہم شروع کریں