اکرم درانی کی ضمانت میں 21 نومبر تک توسیع

چیف جسٹس اطہر من اللہ نےنے اکرم درانی سےاستفسارکیا کہ آپ یہاں دھرنےسےآرہےہیں؟چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پارلیمنٹ کی اہمیت کوبرقراررکھیں۔

دوران سماعت نیب حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کے لیے مہلت طلب کی گئی جس پر عدالت نے آئندہ سماعت تک جواب داخل کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 21 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی۔بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اکرم درانی کا کہنا تھا کہ ہمارامؤقف شروع دن سےواضح ہے، بلاول بھٹو اور مریم نواز سےرابطے جاری ہیں اور آج جوبھی فیصلہ ہوگاعوام کےسامنےرکھیں گے۔

اکرم درانی نے کہا کہ میرےاثاثےسب کےسامنےہیں، اداروں کو چیلنج کرتاہوں میرےاثاثوں کی چھان بین کریں جوکچھ میرےپاس ہےوہ اپناہےاور وراثت سےملاہے،85سالہ بوڑھی ماں سےبھی نیب نےتفتیش شروع کردی ہے۔

اےآروائی نیوزکے صحافی نے جب ان سے سوال کیا کہ کیااپوزیشن کےاتحادی آپ کےساتھ ہیں؟ تو انہوں نے جواب میں کہا اپوزیشن سےایک دونقطوں پرمزیدمعاملات واضح کرناچاہتےہیں،ہم جیل بھروتحریک بھی شروع کرسکتےہیں۔

اکرم درانی کا مزید کہنا تھا کہ کسی نےطاقت کابھی استعمال کیاتواسکابھی جواب دیں گے