آنکھیں رنگین کرانے کے شوق میں خاتون بنیائی سے محروم ہوگئی

آسٹریلیا کی ٹیٹو بنوانے کی شوقین خاتون نے آنکھیں نیلی کروانے کہتے ہیں شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا لیکن آپ نے ایسے انسان نہیں دیکھیں ہوں گے جو اپنے شوق کو پورا کرنے کےلیے اپنی آنکھوں کی بینائی کھو دے۔

جی بلکل آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز کے سینڑل کوسٹ سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ لڑکی امبر لیوک نے خود کو مزید خوبرو و دلکش بنانے کےلیے اپنے جسم میں عجیب و غریب تبدیلیاں کروائی ہیں جس کےلیے 13 ہزار 901 پاؤنڈ خرچ کیے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امبر لیوک نے اپنے جسم پر 200 ٹیٹو بنوا رکھیں ہیں جس میں انہوں نے ہونٹ، گال، سینا اور کان شامل ہیں تاہم ان کے ٹیٹو بنوانے کا سب سے خطرناک عمل آنکھوں کو رنگوانا تھا۔

امبر لیوک جو خود کو ’بلیو آئیڈ وائٹ ڈریگن‘ سے تعبیر کرتی ہیں نے کہا کہ ’میں آپ کو وہ درد بیان بھی نہیں کرسکتی جو میں نے محسوس کیا ہے‘۔

امبرلیوک کہتی ہیں کہ ٹیٹو بنانے والے نے جب میری آنکھوں میں آسمانی رنگ کی سیاہی آنکھوں میں داخل کی تو ایسا محسوس ہوا کہ آرٹسٹ نے شیشے کے کرچے (ٹکڑے) کرکے میری آنکھوں میں گھسا دئیے۔

انہوں نے بتایا کہ آرٹسٹ دونوں آنکھوں میں چار چار بار سیاہی ڈالی تھی یہ بہت سخت تکلیف دہ تھا اور بدقسمتی سے میرا آرٹسٹ میری آنکھوں کی گہرائی جانتا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ کام درست طریقے سے انجام دیا جائے تو وہ اندھے پن کا باعث نہیں بنتا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امبر لیوک اپنی آنکھوں کو بلو کروانے کے باعث تین ہفتوں تک نابینا ہوگئی تھی تاہم تین ہفتوں کے بعد وہ بہتر ہونا شروع ہوگئی۔کے تکلیف دہ عمل کے باعث تین ہفتوں کے نابینا ہوگئی۔