پاکستان نے بھارت کے سیاسی مقاصد کے تحت نئے نقشوں کے اجراء کو مسترد کر دیا

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزارت داخلہ نے 2 نومبر کو نئے نقشے جاری کیے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ان نقشوں میں خطہ جمو‌ں و کشمیر کو بھارتی علاقہ قرار دینا گمراہ کن ہے، نقشے میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ دکھانے کو مسترد کرتے ہیں ۔ بھارت کا نقشے کا اجراء غلط، غیرقانونی اور حقائق مسخ کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارتی اقدام بلاجواز ہے اور ایسے غیر قانونی اقدام کی کوئی حیثیت نہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے ایک بار پھر اقوام متحدہ سلامتی کونسل قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے ۔ پاکستان اقوام متحدہ کے نقشوں سے عدم مطابقت والے بھارتی نقشوں کو مسترد کرتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کا کوئی قدم جموں و کشمیر کی اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت ختم نہیں کر سکتا۔ بھارتی حکومتی اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کا حق خودارادیت سلب نہیں کر سکتے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کرایا جائے۔