معروف فوک گلوکارہ ریشماں کی چھٹی برسی

معروف فوک گلوکارہ ریشماں کو اپنے مداحوں سے بچھڑے چھ برس بیت گئے، آج اُن کی چھٹی برسی منائی جا رہی ہے۔

1947میں جنم لینے والی گلوکارہ ریشماں کا تعلق خانہ بدوشوں کے خاندان سے تھا جو کہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہوا۔ ریشماں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز محض 12برس کی عُمر میں ریڈیو پاکستان سے کیا۔

ریشماں نے”ہائے او ربا نئیں او لگدا دل میرا“، ”چار دنا دا پیار او ربا، بڑی لمبی جدائی“، اور ”اکھیوں کو رہنے دو اکھیوں کے آس پاس“ جیسے گیت گا کر شناخت حاصل کی
انتہائی غریب اور خانہ بدوش خاندان سے تعلق ہونے کی وجہ سے ریشماں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کی تھی وہ کم سُنی میں ہی مختلف صوفیاء کے مزاروں پر گنگنایا کرتی تھیں۔

عظیم صوفی بزرگ لال شہباز قلندر کے مزا رپر ”ہو لعل میری“ گانے پر اُنہیں ریڈیو اور بعدازاں ٹی وی پر بھی گانے کا موقع ملا ”سن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک، ماہیا مینوں یاد آوندا“ جیسے گیتوں نے اُنہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا اور وہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی دعوت پر بھارت بھی گئیں اُن کے متعدد گیت بھارتی فلموں میں بھی شامل کیے گئے
سال 1980 میں اُنہیں گلے کے کینسر کا انکشاف ہوا سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے علاج معالجہ کے لیے اُنہیں بھرپور امداد فراہم کی گئی حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ’ستارہ امتیاز‘ اور ’بلبل صحرا‘ کا خطاب عطاء کیا گیا۔

گلوکارہ ریشماں 3 نومبر 2013 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں