وزیراعظم کی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی ہدایتوزیراعظم کی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی ہدایت

حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے وزیراعظم سے بنی گالا میں ملاقات کی، ملاقات میں موجودہ صورتحال اور اپوزیشن سے مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم نے مذاکرات کے زریعے معاملات حل کرنے کی ہدایت کردی ۔ وزیراعظم نے حکومتی کمیٹی سے کہا کہ غیرجمہوری اورغیر آئینی مطالبات تسلیم نہیں کیے جائیں گے۔
اس سے قبل حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کی رہائش گاہ پر ہوا ۔ صادق سنجرانی نے پیپلزپارٹی رہنما اور رہبر کمیٹی کے رکن نیئر بخاری سے رابطہ کیا ۔چیئرمین سینیٹ نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رہبر کمیٹی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی جس کے جواب میں پیپلز پارٹی رہنما نے چیئرمین سینیٹ کو بتا دیا کہ رہبر کمیٹی ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اے این پی کے رہنما میاں افتخار اور شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ رابطہ بھی کیا ہے ۔اے این پی کے رہنما نے کہا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے ملاقات کے لیے کہا،اسپیکر سے کہا کہ رہبر کمیٹی اجلاس کے بعد آپ کو جواب دوں گا۔ میاں افتخارنے کہا کہ سپیکر نے کہا کہ مار دھاڑ نہیں ہونی چاہیے۔جس پرانہوں نے جواب دیا کہ ہم ویسے ہی عدم تشدد کے علمبردار ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس سربراہ رہبر کمیٹی اکرم خان درانی کی رہائش گاہ پر ہوگا ۔مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر جماعتیں اپنی تجاویز رہبر کمیٹی کو بھیجیں گی ۔اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن کے دوروزہ الٹی میٹم پر مشاورت کی جائے گی ۔مسلم لیگ ن کی جانب سے جلسےتک مولانا کی حمایت حاصل رہی لیکن مولانا کا مارچ سے بیان مبہم ہے اور ابھی تک ن لیگ کو کوئی وضاحت نہیں دی گئی اس سلسلے میں بھی رہبر کمیٹی اجلاس میں بات کی جائے گی ۔
تاہم مولانا کےاعلان کے بعد وزیراعظم کے زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس بنی گالہ میں جاری ہے ۔ جس میں آزادی مارچ ،اپوزیشن کے مطالبات اورآئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔