حکومت کو 2 روز کی مہلت ، مولانا فضل الرحمان کو بڑا دھچکا

دو بڑی اپوزیشن جماعتوں نے جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی اورن لیگ مولانافضل الرحمٰان کوآگاہ کرچکے ہیں جبکہ دیگرجماعتیں پیچھےہٹ گئیں ہیں۔

ذرائع ن لیگ کا کہنا ہے کہ جلسے میں شرکت کی ، کسی دھرنے کی حمایت نہیں کریں گے ، کارکنوں کو دھرنے میں شرکت کی ہدایت جاری نہیں کی، نواز شریف نے آزادی مارچ میں ایک دن شرکت کا کہا تھا، غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والے دھرنے میں شرکت نہیں کریں گے۔

جے یو آئی نے دونوں جماعتوں کو دھرنے میں شرکت کی دعوت دی تھی ، جس میں جماعتوں نے حمایت اورہمدردی جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھییاد رہے گذشتہ روز جے یو آئی کے آزادی مارچ میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے شرکت کی تھی اور خطاب کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

واضح رہے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمان نے اپنے مطالبات سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت دو روز میں استعفیٰ دے ورنہ آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے، یہ مجمع قدرت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو گھر سے گرفتار کرلے، ادارے 2دن میں بتادیں موجودہ حکومت کی پشت پر نہیں کھڑے