سید ضیاء عباس نے ملکی قرضوں سے نجات کا طریقہ بتا دیا

ملکی معیشت کے استحکام کے لیے وزیراعظم اور  آرمی چیف  کو ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے-
پاکستان کے سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر سید ضیاء عباس نے ملکی اور غیر ملکی قرضوں سے نجات کا طریقہ بتا دیا ہے اور جو قابل عمل تجاویز انہوں نے پیش کی ہیں ان پر وزیراعظم پاکستان عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ ملکی معیشت کو استحکام دیا جاسکے ۔سید ضیاء عباس نے یکم نومبر کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم کے ذریعے یاد دلایا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے کچھ ہفتے پہلے آرمی آڈیٹوریم پنڈی میں ایک سیمینار منعقد ہوا تھا جس میں ملک کے صنعت کار اور تاجر ،مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور حماد اظہر بھی موجود تھے ۔اس سیمینار میں صنعت کاروں اور تاجروں نے اپنے مسائل اور تحفظات سے آگاہ کیا ۔یہ سیمینار کا حوالہ دینے کے بعد سید عباس نے لکھا ہے کہ کراچی جو پاکستان کی معیشت کا واحد سہارا ہے گھرانوں کی عدم توجہی سے اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ اب اس کی کوئی کل سیدھی نہیں ۔انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے نہ سڑکیں درست ہیں نہ سیوریج کا نظام درست ہے نا لوگوں کے لئے صاف پانی میسر ہے نا عوام کے لیے ٹرانسپورٹ ہے گندگی کے ڈھیر ہیں صنعتیں بند ہو رہی ہیں ایسا لگتا ہے کوئی ملک دشمن قوت ہے جو مسلسل کراچی کا استحصال کرکے کراچی کو جو پاکستان کی معیشت کی شہاگ ہے گلا گھٹنے پر پولی ہوئی ہے ۔کروڑوں کی آبادی پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے روزگار کا نہ ہونا اور مسلسل بے روزگاری یہ ایک سازش ہے ۔اس شہر کی آبادی میں مسلسل اضافہ سہولتوں کا فقدان کراچی کو کہاں لے جایا جا رہا ہے ۔لہذا ارباب اختیار کو ایک سیمینار بےیارومددگار کراچی کے لیے بھی کرنا چاہیے اس شہر کی سرنو تعمیر ہونی چاہیے اس ضمن میں کراچی کے6 اضلاع  جن میں 18 ٹاؤنز کے چیئرمین اس شہر میں موجود وفاقی ادارے ریلوے کراچی پورٹ ٹرسٹ کنٹونمنٹ اور بورڈ آف ریونیو کی زمینیں ہیں ۔ان کے سربراہوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے ان میں کمشنر میر چھڈ ڈپٹی کمشنرز تمام اداروں کے چیف ایگزیکٹو اور ٹاؤن چیئرمین شامل ہو ں ۔یہ سڑکیں اس طرح بنائی جائیں کہ بارشوں میں ان کے ذریعے گھروں میں پانی داخل نہ ہو بجلی کا نظام جو کہ الیکٹرک سے قبل کافی حد تک نارمل تھا اب بدترین ہوگیا ہے جبکہ صرف ایک یونٹ سو گناہ سے زیادہ ادا کر رہا ہے اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کی سزا بھگت رہا ہے اس حوالے سے منظم مربوط نظام تشکیل دیا جائے آپ رسانی کا نظام بہتر کیا جائے ۔آخر میں سید ضیاء عباس کہتے ہیں کہ کراچی میں تعمیرنو کے لیے فوج کے کور آپ انجینئر سے مدد لی جائے اور انہیں کی نگرانی میں ترقیاتی کام کروائے جائیں ۔اگر ایسا ہوا تو کراچی میں اپنی حقیقی صورتحال میں بحال ہوکر پاکستانی معیشت کا مزید بوجھ بھی برداشت کر سکے گا دوسری جانب اگر کراچی کی جانب توجہ نہ دی گئی تو پھر اس کا خمیازہ سب کو غلط نہ ہوگا کراچی کی طرف سے لاپروائی پاکستان کے استحکام سے لاپروائی ہوگی جس طرح غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی مشکل ہو رہی ہے اسی طرح اگر کراچی کو فوری طور پر جنگی بنیادوں پر ازسر نو تعمیر نہ کیا گیا تو ملک کا 70 فیصد ریونیو والا خلا کون پر کرے گا ؟







اپنا تبصرہ بھیجیں