’آزادی مارچ‘ کی کامیابی سے عوام کے مینڈیٹ کی حاکمیت قائم ہو گی۔

’آزادی مارچ‘ اور فتنۂ محشر میں کوئی تعلق ضرور ہے کہ ہمارے گردوپیش اور دُور و نزدیک دِلوں میں اور چہروں پر اضطراب کی لہریں صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے جولائی 2018کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف شدید ردِعمل دیتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس میں یہ تجویز دی تھی کہ اپوزیشن جماعتوں کے کامیاب اُمیدواروں کو اسمبلیوں کی رکنیت کا حلف نہیں اُٹھانا چاہئے کیونکہ وہ بڑے پیمانے پر مبینہ دھاندلی کی پیداوار ہیں۔ سوا سال بعد خود مسلم لیگ کے قائد جناب نواز شریف نے اعتراف کیا مگر جمہوریت کے پٹڑی سے اُتر جانے اور مارشل لا لگ جانے کے خوف سے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے کوئی انتہائی قدم اُٹھانے سے گریز کیا اور اِس بات کا بھی خیال رکھا کہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا معاملہ عدلیہ کے سپرد کرنے کے بجائے اسے پارلیمان کے ذریعے حل کیا جائے۔ حکومت کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد وزیرِ دفاع جناب پرویز خٹک کی سربراہی میں دونوں ایوانوں پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی، مگر حکومت نے مختلف حیلے بہانوں سے اِس کے قواعد و ضوابط ہی طے نہ ہونے دیئے اور تحقیقات کا معاملہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پس منظر میں چلا گیا جس کے باعث اپوزیشن میں شدید ہیجان پرورش پاتا رہا۔
جولائی 2018کے انتخابات سے پہلے وزیرِاعظم نواز شریف کو پانامہ اور اَقامہ کی سخت آزمائشوں سے گزرنا، اِقتدار سے محروم ہونا اور جیل کی سلاخوں میں بند رہنا پڑا۔ بعض حلقے اُنہیں صفحۂ سیاست سے حرفِ غلط کی طرح مٹانے پر تُلے ہوئے تھے۔ احتساب عدالت کے جس جج صاحب نے اُنہیں سزا سنائی، اُن کی متنازع وڈیوز منظرِ عام پر آ چکی ہیں جس میں اُنہوں نے سچ یا جھوٹ یہ اعتراف کیا ہے کہ مَیں نے سزا دباؤ میں آ کر دی تھی۔ اِس ’اعترافِ حقیقت‘ کے بعد بھی عدالتِ عظمیٰ ابھی تک اُس اپیل کی سماعت نہیں کر سکی جو نوازشریف صاحب نے سزا کے خلاف دائر کر رکھی ہے۔ مزید تکلیف دہ امر یہ ہے کہ (ن) لیگ کے بعض حلقوں کے مطابق مبینہ طور پر نیب اُنہیں اذیت پہنچانے کے لیے نئے نئے ستم ایجاد کر رہا ہے۔ اُنہیں اپنی حراست میں لے کر بدترین اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا جس کے سبب اُن کو لاحق امراض ایک ایسی خطرناک صورت اختیار کر گئے جس پر حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ جناب نواز شریف جو ہمارے دوست وجاہت مسعود کے الفاظ میں ’زندہ شہید‘ کا عظیم الشان مرتبہ حاصل کر چکے ہیں، وہ بہادری، استقامت اور مزاحمت کا زندۂ جاوید استعارہ بن چکے ہیں۔ اُنہوں نے سرنگوں ہونے کے بجائے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا ہوشربا نعرہ بلند کیا اور وہ ووٹ کی بالادستی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے پوری طرح پُرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ نواز شریف کے قریبی حلقے یہ کہتے ہیں کہ نوازشریف اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اُن کی غیرت یہ بھی گوارا نہیں کر رہی کہ سرکاری ڈاکٹروں سے علاج کرایا جائے۔ اربابِ حکومت جو اُن کی بیماری کا مذاق اُڑاتے رہے تھے، اب مختلف شخصیات کے ذریعے میاں صاحب کی مریم نواز کے ہمراہ ملک سے باہر جا کر علاج کرانے کے لیے مبینہ طور پر منت سماجت کر رہے ہیں، لیکن اب شاید وہ وقت گزر چکا۔ جناب نواز شریف کی بہادری اور اصولوں کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی نے تاریخ کے نہایت نازک موڑ پر اُن کی سیاسی جماعت کو متحد اور منظم رکھا ہے۔
جمہوری معاشرے دراصل سیاسی جماعتوں کے ذریعے وحدت کی لڑی میں پروئے رہتے ہیں، اِس لیے اُن کی نشو و نما اور اِرتقا پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سیاسی قائدین اور اَرکان کی کردار کشی جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ جناب نواز شریف کی طرح جناب آصف زرداری بھی ایک بڑی سیاسی جماعت کے رہنما ہیں۔ اُن کا یہ عظیم کارنامہ ہماری تاریخ کے صفحات پر نقش ہو چکا ہے کہ جب محترمہ بےنظیر بھٹو کی شہادت پر سندھ میں بغاوت پھیل گئی تھی، تو اُنہوں نے ’پاکستان کھپے‘ کا پوری توانائی سے نعرہ بلند کر کے قوم کو پارہ پارہ ہونے سے بچا لیا تھا۔ وہ اِن دنوں نیب کی حراست میں ہیں اور اُن کی صحت حددرجہ تشویشناک ہے۔ اربابِ اختیار کو اُن کی رہائی کے بارے میں بہت سنجیدہ طرزِعمل اختیار کرنا اور سیاسی مفاہمت کو فروغ دینا چاہئے۔ اِسی طرح مولانا فضل الرحمٰن ایک ایسی جماعت کے سربراہ ہیں جس کی بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں گہری جڑیں ہیں اور اُن کے ’آزادی مارچ‘ نے ثابت کر دیا ہے کہ اُنہیں واقعی قابلِ ذکر عوامی حمایت حاصل ہے۔ اُن پر طنز و تشنیع کے تیر چلانے کے بجائے اربابِ بست و کشاد کو اُس تنازع کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہئے جس کا تعلق گزشتہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے ہے۔ اِسی طرح امیر جماعتِ اسلامی جناب سراج الحق پورے پاکستان میں مقبوضہ کشمیر کے انتہائی مظلوم کشمیریوں کے حق میں جاندار تحریک چلا رہے ہیں، اُن کی جماعت درمیانے طبقے میں اثرورسوخ رکھتی ہے اور قومی وحدت کو مستحکم میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں اے این پی اور قومی وطن پارٹی بھی عوام کو ایک دوسرے سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں جناب اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی کا یقینی طور پر ایک اہم کردار ہے۔ اِن سرچشموں میں موجوں کی طغیانی رہنی چاہئے۔
جناب نواز شریف کی صحت کی بحالی کے لیے روزانہ ہاتھ اُٹھتے ہیں۔ اُنہیں صحت یاب ہو کر قومی وحدت اور ووٹ کے تقدس کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جماعت کو جمہوری بنیادوں پر تمام صوبوں میں منظم کرنا اور مخلص کارکنوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہوگا۔ اِس کے علاوہ میڈیا کی آزادی کی جنگ بڑی پامردی سے لڑی جائے کیونکہ جمہوریت کے استحکام اور اِرتقا میں اس کا کردار بہت کلیدی ہے۔ وہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا تنازع حل کرانے اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے جمہوری طاقتوں میں ایک نئی روح پھونک سکتے ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن کے ’آزادی مارچ‘ کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نتیجہ خیز بنانے کے لیے عملی تعاون کر سکتے ہیں کہ اِس کی کامیابی سے عوام کے مینڈیٹ کی حاکمیت قائم ہو گی۔ written-by-Altaf-Hassan-Qurishy-published-by-jang

اپنا تبصرہ بھیجیں