خلیل الرحمٰن قمر کے متنازع بیان پر پاکستانی ستاروں کی تنقید

پاکستان کے نامور مصنف خلیل الرحمٰن قمر نے ‘صدقے تمہارے’ اور ‘پیارے افضل’ جیسے کامیاب ڈراموں کی کہانیاں تحریر کی ہیں اور ان کی جانب سے لکھا ہوا ڈراما ‘میرے پاس تم ہو’ اس وقت شائقین کے درمیان بےحد مقبول ہورہا ہے۔
اس ڈرامے کے حوالے سے ہی حال ہی میں خلیل الرحمٰن قمر نے ایک انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے فیمنسٹ اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے کئی متنازع بیانات دیے، جس کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: ‘خواتین برابری کی بات کرتی ہیں تو مرد کا گینگ ریپ بھی کرلیں’
خلیل الرحمٰن قمر کا اپنے انٹرویو میں کہنا تھا کہ ‘میں ہر عورت کو عورت نہیں کہتا، میری نظر میں عورت کے پاس ایک خوبصورتی ہے اور وہ اس کی وفا اور حیا ہے، اگر وہ نہیں تو میرے لیے وہ عورت ہی نہیں’۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ‘اگر خواتین برابری کی بات کرتی ہیں تو وہ بھی مل کر مردوں کا گینگ ریپ کرلیں’۔
جس کے بعد پاکستان کے نامور ستارے سوشل میڈیا پر خلیل الرحمٰن قمر کے متنازع بیانات کے خلاف بات کرتے نظر آئے۔
اداکار عثمان خالد بٹ کا کہنا تھا کہ ‘مرد کے پاس انکار کرنے کی قابلیت نہیں ہوتی؟ شادی شدہ ہونے کے باوجود افیئر چلانے پر اگر میری بیوی مجھے چھوڑ کر جائے تو میں ہی گلا کروں’۔

عفت عمر نے خلیل الرحمٰن قمر سے معافی مانگتے کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘آخر یہ آدمی اس طرح خواتین کی تذلیل کیسے کرسکتا ہے؟ انہیں سب کے سامنے معافی مانگنی چاہیے’۔

اداکار علی گل پیر کا کہنا تھا کہ ‘اور یہ شخص ہماری ٹی وی انڈسٹری کا سب سے بہترین مصنف مانا جاتا ہے، اگر یہ ڈراموں کی کہانی لکھتے رہیں گے تو سوچ لیں کہ کس قسم کی کہانیاں ہمیں ٹی وی پر نظر آئیں گی’۔

گلوکارہ میشا شفیع کا کہنا تھا کہ ‘اور اب کتنے اداکار، اداکارائیں، پروڈیوسر، ڈائیریکٹرز اور چینلز سامنے آکر ایسے بیانات کو روکنے کی کوشش کریں گے؟’

ہدایت کار جامی نے لکھا کہ ‘خلیل الرحمٰن قمر جیسے لوگ پر چینل، فلم کمپنی اور اسٹوڈیو، فیشن کی دنیا، اسٹائلنگ، میڈیا ہاؤسز، میوزک انڈسٹری میں موجود ہیں، یہ سب ہمارے شوز، مارننگ شوز، نیوز اور ٹی وی ڈراموں میں نظر آتے ہیں، اس قسم کے لوگ کھلے عام برائی پھیلا رہے ہیں’۔

اداکارہ ارمینہ خان نے خلیل الرحمٰن قمر کے بیانات کے بعد ایک مزاحیہ تصویر کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘مجھ سے بڑا فیمنسٹ پاکستان میں کوئی نہیں، لیکن میں صرف اچھی خواتین کو سپورٹ کرتا ہوں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ایک مرد جو اپنا سارا وقار اور سرمایہ اپنی بیوی کی مٹھی میں رکھ کر اس کے لیے کام کرنے باہر جاتا ہے، تو میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی عورتوں پر جو شوہر کے جانے کے بعد اپنی مٹھی کو کھول لیتی ہیں’۔
خلیل الرحمٰن کے مطابق ‘میں نے فیمنسٹ خواتین کے ایک گروپ سے حال ہی میں برابری کے حوالے سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ خبر پڑھی ہے کہ پانچ مردوں نے ایک لڑکی کو اغوا کرلیا؟ تو انہوں نے کہا ہاں پڑھی ہے تو میں نے کہا یہ خبر پڑھی ہے کہ پانچ لڑکیوں نے مل کر ایک لڑکے کو اغوا کرلیا تو انہوں نے کہا نہیں، تو میں نے کہا کہ کیوں نہیں کیا پھر؟ برابری کی بات ہے تو پھر لڑکیاں اٹھا کر لے جائیں مردوں کو اور گینگ ریپ کریں ان کا، پھر بات ہو برابری کی اور پتا چلے کہ کون سی برابری مانگ رہی ہیں’

اپنا تبصرہ بھیجیں