جادو ٹونے سے حکومت چلائی جارہی ہے

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ میں شرکت کے لیے پہنچے۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمٰن نے ان کا استقبال کیا اور اپوزیشن کے دونوں رہنماؤں نے شرکا کے نعروں کا جواب ہاتھ ہلاکر دیا۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے کہا کہ آزادی مارچ تحریک کا پہلا حصہ ہے، اس کو آگے بڑھانا ہے، پہلے جو آئی تھی وہ تبدیلی نہیں تھی بلکہ تبدیلی اب آئی ہے اور یہ تحریک انصاف کی حکومت کو بہا کر لے جائے گی- مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ‘یہ ہماری پرامن صلاحیتوں کا اظہار ہے، ہم پرامن لوگ ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ امن کے دائرے میں رہیں ورنہ اسلام آباد کے اندر پاکستان کے عوام کا یہ سمندر اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کے گھر کے اندر جاکر وزیراعظم کو خود گرفتار کرلیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘عوام کا فیصلہ آچکا ہے اب اس حکومت کو جانا ہی جانا ہے لیکن میں اداروں کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہوں، ہماری نپی تلی پالیسی ہے کہ ہم اداروں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے ہم پاکستان کے اداروں کا استحکام چاہتے ہیں، ہم اداروں کو طاقت ور دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم اداروں کو غیر جانب دار بھی دیکھنا چاہتے ہیں’۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘اگر ہم محسوس کریں کہ اس ناجائز حکومت کی پشت پر ہمارے ادارے ہیں، اگر ہم محسوس کریں کہ اگر ان ناجائز حکمرانوں کا تحفظ ہمارے ادارے کر رہے ہیں تو پھر دو دن کی مہلت ہے پھر ہمیں نہ روکا جائے کہ ہم اداروں کے بارے میں اپنی کیا رائے قائم کرتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘آج میرا استاد سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہے، معماران قوم کواسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہے، خواتین استانیوں کو چہروں پر تھپڑ مارے جارہے ہیں، سڑکوں اور تھانوں میں ان کی تذلیل کی جارہی ہے، جو قوم کو علم کی زینت سے سنوارتے ہیں آج اسی کی سزا پاکستان میں پارہے ہیں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں