“کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے مگر افسوس لاوارث کراچی کو پوچھنے والا کوئی نہیں”

“کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے مگر افسوس لاوارث کراچی کو پوچھنے والا کوئی نہیں”

ایف بی آر نے ملک بھر کی مختلف مارکیٹوں میں کیا جانے والے سروے کے نتائج جاری کردئیے,

سروے کے مطابق کراچی کی 6 مارکیٹ(صدر, طارق روڈ, کلفٹن, گولیمار, DHA, جوہر) سے ٹیکس کلکشن 30.87 Billion روپے اور ٹیکس فائلر کی تعداد 85,020 ہے

, لاہور کی 4 مارکیٹ (انارکلی, مال, حفیظ سینٹر, لبرٹی) ٹیکس کلکشن 567 Million اور فائلرز کی تعداد 3,925 ,

راولپنڈی میں 5 مارکیٹوں میں ٹیکس کلکشن 1.092 Billion اور ٹیکس فائلرز کی تعداد 6,560 ,

فیصل آباد میں 5 مارکیٹوں میں ٹیکس کلیکشن 141 Million جبکہ ٹیکس فائلر کی تعداد 2,266

, اسلام آباد میں 4 مارکیٹ(سپر مارکیٹ, بلو ایریا, F10 مرکز, جناح سپر) ٹیکس کلیکلشن 1.93 بلین اور ٹیکس فائلر کی تعداد 6,428۔

کراچی جو تمام شہروں سے زیادہ ٹیکس کی ادائیگی کر رہا ہے مگر افسوس کراچی کو بدلے میں کیا مل رہا ہے ٹوٹی سڑکیں, بہتے گٹر, بوسیدہ ٹرانسپورٹ کا نظام وہ شہر جو پورے ملک کی معیشت کا بوحھ اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہوا ہے وہ آج لاوارثوں کی طرح ہے کوئی پوچھنے والا نہیں, اربوں ٹیکس دینے کے باوجود کراچی کے حصہ میں نا کوئی میگا پراجیکٹ اور نا ہی کوئی ترقی کا منصوبہ