صرف مولانا جانتے ہیں کہ وہ دھرنا دیں گے یا مارچ : اعجاز شاہ

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مولانا کے آزادی مارچ کو نہیں روکا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ وزیر اعظم عمران خان ایک سیاسی شخصیت ہیں اس لئے انہوں نے مولانا کے مارچ کو نہ روکنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ مولانا کے مارچ کو اب بھی اپوزیشن کے مارچ میں تبدیل نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مولانا کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانا چاہتے تھے، وزیر اعظم نے اچھی حکمت عملی کے تحت مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جس کے بعد مذاکراتی کمیٹی نے رہبر کمیٹی سے رابطہ کیا۔اس دوران مارچ پرخطرے کے بارے میں مولانا فضل الرحمن کو آگاہ کیا گیا۔ حزب اختلاف نے جولائی میں حکومت کے خلاف احتجاج شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور 3 اکتوبر کو جے یو آئی-ایف کے سربراہ نے مارچ کے لئے تاریخ کا اعلان کیا۔ ابتدا میں ان کا صرف ایک مطالبہ تھا لیکن اب مطالبات تین یا اس سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔ اعجاز شاہ نے مزید کہا کہ گذشتہ دنوں حزب اختلاف اور حکومت کے مابین دوبدو بیانات کی وجہ سے سیاسی ماحول تناؤ کا شکار ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مارچ 27 اکتوبر کو کراچی سے شروع ہوا اور آج گجر خان پہنچا ہے ۔روات سے قافلے نے سیدھا ایکسپریس وے پر فیض آباد کی طرف آنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا کنٹیر بہت مہنگا ہے شاید جرمنی یا جاپان سے بنا ہے ہم نے مولانا کے کنٹینر کیلئے روٹ علیحدہ کیا ہے،تاکہ ہم پر کوئی الزام نہ آئے کہ ہم نے کنٹینرکو نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خواہ سے آنے والے قافلے ترنول کی جانب سے داخل ہونگے۔ ہم نے جلسے کی جگہ میں بجلی اور پانی کے کنکشنز دے دیئے ہیں،وہ اسی طرح محسوس کریں گے جیسے پی سی میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام فضل کی زیرقیادت (جے یو آئی-ف) آزادی مارچ آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہونے کے لئے تیار ہے۔ H-9 پارک اسلام آباد میں تیاری آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے ، جہاں جے یو آئی (ف) کے رہنما نے دھرنا دینے کا اعلان کررکھا ہے۔