کالم نگار جاوید چودھری نے مولانا طارق جمیل کی نواز شریف سے ملاقات کا احوال بتا دیا

سروسز اسپتال میں زیر علاج سابق وزیراعظم نواز شریف سے معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے ملاقات کی۔ معروف کالم نگار جاوید چودھری نے اپنے حالیہ کالم میں مولانا طارق جمیل اور نوازشریف کی اس ملاقات کا احوال بتا دیا۔ انہوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ 24 کتوبر کو مولانا طارق جمیل میاں نواز شریف کی عیادت کے لیے گئے اور وہاں ایک گھنٹہ اسپتال میں بیٹھے رہے۔
انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے اس دوران کوئی شکوہ نہیں کیا، یہ بھی نہیں کہا کہ آپ کن لوگوں کے ساتھ مل کر ریاست مدینہ تلاش کر رہے ہیں لیکن جب مولانا اُٹھنے لگے تو نواز شریف نے ان سے کہا ”آپ بس ایک دعا کریں، اللہ تعالیٰ کسی کو دشمن دے تو اعلیٰ ظرف دے”۔
جاوید چودھری نے کہا کہ یہ ایک فقرہ کافی ہے، افسوس کہ حکومت احتساب بھی نہیں کر سکی اور یہ اعلیٰ ظرفی سے بھی محروم ہو گئی، آخر اس کے ہاتھ راکھ اور خاک کے سوا کیا آیا؟ یہ لوگ اپنی ساکھ بھی کھو بیٹھے اور یہ عوام کے اعتماد کی دولت سے بھی محروم ہو گئے، ہم نے آخر کوئلوں کی دلالی سے کیا پایا؟ اور اس دلالی میں اگر زرداری صاحب یا میاں صاحب کو کچھ ہو جاتا ہے تو پھر حکومت کہاں ہو گی؟ انہوں نے اپنے کالم میں موجودہ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عمران خان قوم کی امید تھے، حکومت کو بہرحال کام یاب ہونا چاہیے تھا مگر افسوس ان لوگوں نے خود گڑھے کھودے اور یہ خود ہی ان میں جا گرے، انہوں نے کہا کہ عمران خان اب لیڈر بن رہے تھے،یہ خود کو اتھارٹی سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔
چنانچہ ان کے ٹائروں سے ہوا نکلنا ضروری تھی اور یہ اب نکل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کندھوں پر چڑھنا عمران خان کی پہلی بڑی غلطی تھی،ان کی دوسری بڑی غلطی اپنی ساری توانائی اپوزیشن کو دبانے پر خرچ کردینا تھی۔ یہ جتنا زور میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو نیچے دبانے یا رگڑا لگانے پر لگاتے رہے، یہ اگر اتنی توجہ گورننس اور پرفارمنس پر دے دیتے تو آج مؤرخ تاریخ کو نئے زاویے سے لکھ رہا ہوتا۔ آج لوگ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو فراموش کر چکے ہوتے لیکن افسوس عمران خان نے زرداری اور نواز شریف دونوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں