وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ، آزادی مارچ سے متعلق بڑے فیصلوں کا امکان

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم ترین اجلاس وزیراعظم آفس میں شروع ہوگیا، کابینہ میں خارجہ شاہ محمود قریشی کی مرحوم ہمشیرہ ، شہریار آفریدی کی ہمشیرہ اور ،اسدقیصرکے چچا کےایصال ثواب کیلئے دعا کی گئی۔

اجلاس میں پرویز خٹک مذاکرات کی تفصیلات پر مبنی رپورٹ کل کابینہ میں پیش کریں گے اور جے یو آئی ف، انتظامیہ کیساتھ معاہدے کا جائزہ لیا جائے گا، اجلاس میں کابینہ کو وفاقی دارالحکومت سمیت ملک میں امن وامان پر بھی بریفنگ دی جائے گی جبکہ آزادی مارچ کے حوالے سے بڑے فیصلے متوقع ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کا 13 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق وزارتوں، ڈویژنز میں سی ای اوز، ایم ڈیز کی خالی پوسٹوں کا معاملہ ، کراچی، لاہور، پشاور، ملتان میں بلندعمارتوں کی تعمیرکی پالیسی کی منظوری ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

وفاقی کابینہ سول ایوی ایشن رولز 1994میں ترمیم، آرٹسٹ ویلفیئر فنڈز کی وزارت اطلاعات و نشریات کو منتقلی ، نیشنل سیونگز کے ڈی جی کی تنخواہ سمیت مکمل پیکج کی منظوری دے گی۔ہیلتھ کیئر فیسلیٹیز مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے مسودے کی منظوری ، پی ایل این جی لمیٹڈ کے سی ای او، ایم ڈی کے کٹریکٹ ختم کرنے کی منظوری ، ایس ایس جی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز اور پی ایل این جی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ازسر نو تشکیل کی منظوری ایجنڈے میں شامل ہیں۔

کابینہ اجلاس میں گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے بورڈ ، چیئرمین متروکہ وقف املاک عامراحمدکی ایم پی ون کے تحت تنخواہ ، وزیر اقتصادی امور کو نیشنل ایگزیکٹوکمیٹی کا رکن بنانے اور ڈی جی ایم او، ڈی جی(سی) آئی ایس آئی کوجنرل کمیٹی ممبر بنانے کی منظوری دی جائے گی ۔

خیال رہے ذرائع کا کہنا تھا کہ پرویزخٹک نے رہبر کمیٹی سے مذاکرات کی رپورٹ بھی تیار کرلی ہے، رپورٹ کے نکات میں کہا گیا تھا کہ آزادی مارچ ایک معاہدے کے تحت ہورہا ہے، رہبرکمیٹی میں تمام جماعتوں سے رابطے ہوئے، آزادی مارچ والوں کو معاہدے کے نکات کی پابندی کرنا ہوگی۔

پرویز خٹک کی رپورٹ کے نکات میں بتایا گیا کہ حکومت نے آزادی مارچ میں اب تک کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی، معاہدے کے تحت آزادی مارچ جلسہ گاہ تک محدود رہے گا۔