یہ بات تشویش ناک ہے کہ ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح بریسٹ کینسر کی شرح پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہے۔

السلام علیکم
مجھے بہت خوشی ہے کہ آج ہم سب یہاں ایک اہم اور نیک مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی پھیلانا ایک مثبت سرگرمی ہے اوریہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس میں بھرپور کردار ادا کریں۔

یہ بات تشویش ناک ہے کہ ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح بریسٹ کینسر کی شرح پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہے۔ پاکستان میں کینسر کی سب سے عام قسم بریسٹ کینسر ہے اور اس کے پھیلاؤ کی شرح ( prevalence rate )ایک اندازے کے مطابق تقریباً 40 فیصد ہے۔ تسلّی بخش بات یہ ہے کہ اگر ابتدائی مرحلے میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہو جائے تو جان بچنے کے امکانات 90 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

خواتین و حضرات!
یہ بے حد افسوس ناک ہو گا کہ پاکستان کی خواتین محض اس بنا پر بریسٹ کینسر میں مبتلا ہو جائیں کہ انہیں اس مُوذی مرض سے آگاہی نہیں تھی۔ کسی بھی مشکل یا مسئلے پر قابو پانے کا سب سے پہلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ اس مسئلے سے آگاہی بڑھائی جائے۔ جو بھی ادارہ بریسٹ کینسر کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے وہ ہماری تائید اور تعاون کا حقدار ہے، اور ایسے تمام اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ ابتدا ہی میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہو جائے اور اس کی روک تھام کے حوالے سے آگاہی بڑھائی جائے۔

یہاں میں اسٹیٹ بینک کی ان کوششوں کا ذکر کرنا چاہوں گا جو وہ اِس آگاہی کو بڑھانے کے لیے کر رہا ہے۔ ہر سال اکتوبر کے مہینے میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی لیکچرز کے لیے اسٹیٹ بینک معروف اسپتالوں کا تعاون حاصل کرتا ہے جن میں آغا خان یونیورسٹی اسپتال، شوکت خانم اسپتال اور لیاقت نیشنل اسپتال شامل ہیں۔ یہ سلسلہ کئی سال سے جاری ہے۔

اس مرض سے بچاؤ کے لیے آگاہی بڑھانے کی اہمیت اجاگر کرنے کی خاطر پِنک ربن پاکستان ( Pink Ribbon Pakistan) گذشتہ 15 سال سے جو کوششیں کر رہا ہے وہ اطمینان بخش اور قابلِ تعریف ہیں، خاص طور پر پِنک الیومنیشن (Pink Illuminations) کا اقدام جو 2012ء سے منعقد کیا جا رہا ہے – یہ الیومنیشن اس مسئلے پر لوگوں کی توجہ مبذول کرانے میں ایک مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں سے یقیناً بڑے پیمانے پر آگاہی پھیلتی ہے اور علاج تک رسائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

یہ بات قابلِ تعریف ہے کہ سرکاری شعبہ بھی الیومنیشن اور آگاہی کی سرگرمیوں کے ذریعے پِنک ربن سے تعاون کر رہا ہے۔ نجی شعبے کو بھی چاہیے کہ اپنی کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) کے پروگراموں کے ذریعے پِنک ربن جیسے اداروں کے ساتھ تعاون کرے جو اس مرض میں مبتلا لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔

تمام اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ بریسٹ کینسر کے مسئلے کا خاتمہ کرنے کے لیے آپس میں اشتراک کریں۔ ہمارا آپس کا تعاون ہمیں اس مہم میں بڑی کامیابیاں دلا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کے ذریعے اس مرض پر قابو پا سکتے ہیں۔

آپ سب کا شکریہ!