نوید احمد شیخ ذہین محنتی اور کامیاب سرکاری افسر

بلوچستان اور سندھ میں اہم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دینے والے نوید احمد شیخ کا شمار ذہین محنتی اور کامیاب سرکاری افسران میں ہوتا ہے سابقہ ڈی ایم جی اور موجودہ پی اے ایس پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گروپ سے تعلق رکھنے والے گریڈ 21کے سینئر افسر کی حیثیت سے وہ اپنے فرائض منصبی پوری توجہ لگن اور ذمہ داری سے نبھاتے ہیں ان کے کام کو قابل قدر نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ صاف گو اور دوٹوک گفتگو کے عادی اور اصولوں کے مطابق سرکاری امور انجام دینے والے افسر ہیں قواعد و ضوابط کو لاگو رکھنے میں دلچسپی لیتے ہیں اور سفارش کلچر کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں ۔ذاتی طور پر ایک سادہ اور خوش مزاج طبیعت کے مالک ہیں نفاست پسند ہیں اعلیٰ ذوق کے حامل ہیں ۔
بلوچستان اور سندھ کے اہم لیکن مشکل ڈویژن کے کمشنر رہ چکے ہیں نصیرآباد لاڑکانہ اور سکھر میں ان کی خدمات کو اچھے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے سیکورٹی یونیورسٹیز بورڈ حکومت سندھ کی حیثیت سے بھی انہوں نے عمدگی سے خدمات انجام دیں جبکہ سیکرٹری سروسز سندھ کے عہدے پر شاندار انداز سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔
اعلی اخلاقی اقدار ان کے مضبوط خاندانی پس منظر کی گواہی دیتی ہیں انہوں نے چھوٹے بڑوں کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آنے ،سینئرز اور جو نیر ز کے ساتھ احترام اور شفقت کا رویہ اپنانے اور سائلین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی عمدہ اور قابل ستائش روایت قائم رکھی ہے جو ان کے سینئرز کی بہترین تربیت کا پتہ دیتی ہے ۔
سرکاری عہدے عام طور پر تھینک لیس سمجھے جاتے ہیں کیونکہ آپ ہر کسی کو نہ تو خوش رکھ سکتے ہیں نہ ہی سب کی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں جہاں بھی قاعدے قانون کی بات ہوتی ہے کوئی نہ کوئی ناراض ہوتا ہے یا ناک منہ بنا لیتا ہے ناراضگی کا اظہار بھی کرتا ہے ہمارے معاشرے میں ہر شخص اپنے لیے رعایت لینے اور میرٹ کو پس پشت ڈال دینے کی خواہش لے کر اپنا کام ساتھ لے کر آتا ہے بااثر اور طاقتور شخصیات بھی قانون کو اپنی مرضی سے استعمال کرنا چاہتی ہیں اور یہیں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے انہیں انکار سننے کی عادت نہیں ہوتی وہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کو قانون پڑھائے ۔ایسے حالات میں اور ایسے لوگوں کے سامنے قانون کی بات کرنا اور قاعدے قانون کے مطابق کام کرنے والے اور ڈٹ جانے والے افسران یقینی طور پر باہمت اور بہادر ہوتے ہیں اور ان کو سلام پیش کرنا چاہیے ۔
نوید شیخ بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی راستے کے مسافر ہیں جرات اور بہادری سے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اصولوں اور قاعدے قانون کے مطابق فیصلے کرتے آرہے ہیں اس لیے ان کا کام قابل ستائش بھی ہے اور قابل تقلید مثال بھی ۔۔۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام ان کی مزید ترقی اور نیک نامی کے لئے دعا گو ہے