سمندری طوفان کے باعث سطح سمندر بلند ہونے سے مختلف جزیروں میں پانی داخل ہوگیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سمندری طوفان کے باعث سطح سمندر بلند ہونے سے مختلف جزیروں میں پانی داخل ہوگیا،سیلابی صورت حال کے پیش نظر چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوساءٹی عبدالبراور ڈپٹی کمشنر ویسٹ فیاض عالم سولنگی نے متاثرہ علاقوں کے ہنگامی دورے شروع کر دیئے ۔ چیئرمین عبدالبرنے کہا کہ وہ ماہی گیر آبادیوں کی سیلابی صورت حال اور امدادی کاموں کی نگرانی خود کریں گے ۔ جبکہ چیئرمین ایف سی ایس عبدالبرکی ہدایت پربابا آئی لینڈ، شمس پیر آئی لینڈ اور کیماڑی کے علاقوں میں تین امدادی کیمپ لگا دیئے گئے،متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں ۔ تفصیلات کے مطابق سمندری طوفان کے باعث سطح سمندر بلند ہونے کی وجہ سے ماہی گیر آبادیوں اور جزیروں میں پانی داخل ہونے سے سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی ہے ۔ چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوساءٹی عبدالبر اور ڈپٹی کمشنر ویسٹ فیاض عالم سولنگی نے ہنگامی دورے شروع کر دیئے ۔ ممکنہ سمندری طوفان کے خدشے کے پیش نظر کھلے سمندر میں موجود ماہی گیروں کو گزشتہ روز واپس بلا لیا گیا تھا جبکہ سمندری طوفان کے خاتمے سے قبل کسی ماہی گیر کو کھلے سمندر میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ سطح سمندر بلند ہونے کی وجہ سے بابا، بھٹ،شمس پیر،ڈام بندر،کند ملیر،ابراہیم حیدری سمیت مختلف جزیروں و ماہی گیر آبادیوں میں ماہی گیروں کے گھروں میں پانی داخل ہو نے سے سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی ہے ۔ اس صورتحال سے نپٹنے کے لیے چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوساءٹی عبدالبرکی ہدایت پر بابا آئی لینڈ ، شمس پیر آئی لینڈ اور کیماڑی کے علاقوں میں فوری طور پر تین امدادی کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں تاکہ متاثرہ ماہی گیر آبادیوں میں تیزی سے امدادی کام انجام دیئے جاسکیں ۔ فشر مینز کو آپریٹو سوساءٹی کے کارکنوں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں ۔ چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوساءٹی عبدالبر نے کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو امدادی کیمپوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جائے گا ۔ اور کسی ماہی گیر کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑا جائے گا ۔ چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوساءٹی عبدالبر نے ایف سی ایس انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ماہی گیروں کو ریلیف پہنچانے اور امدادی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ واضح رہے کہ ممکنہ سمندری طوفان کے خدشے کے پیش نظر کھلے سمندر میں موجود ماہی گیروں کو گزشتہ روز واپس بلا لیا گیا تھا جبکہ سمندری طوفان کے خاتمے سے قبل کسی ماہی گیر کو کھلے سمندر میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے