نظام تعلیم کی بہتری کے لیے مل جل کر کام کرنا ہو گا،وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی

نظام تعلیم کی بہتری کے لیے مل جل کر کام کرنا ہو گا،وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی
کراچی (28اکتوبر) صو با ئی وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے نظام تعلیم کی بہتری کے لیے دور حاضر کے کے تقا ضو ں کے مطا بق تما م طبقہ فکر کو یکجہتی کے ساتھ مل جل کر کام کرنا ہوں گا ، حکومت یا کو ئی ادارہ اس وقت تک بہتر کام نہیں کر سکتا جب تک مقا می افرا د اورادا ر ے حکومت کا ساتھ نہ دیںان خیالات کا اظہار انہوں نے پی اے ایف کے کراچی انسٹویٹ آف انفارمیشن اینڈٹیکنالوجی KIET کی جانب سے منعقدہ فئیر 2019 کا معائنہ کرتے ہوئے اور صحافیوں سے گفتگو اور طلباءسے خطاب کرتے ہوئے کیا،پروگرام میں صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کے علاوہ دیگر معززین شہر نے بھی شرکت کی ،سعید غنی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں کراچی کا ہمیشہ اہم رول رہا ہے کراچی کی تعلیم کی دنیا بھر میں مثا ل دی جا تی تھی ایک مثا لی تعلیم ہو نے کے با عث اور یہاں ملک سمیت دنیا بھر سے لوگ تعلیم حاصل کرنے آتے تھے فا ر غ التحصیل ہو نے کے بعد اپنے عزیز ملک کو چھو ڑ کر چلے جا تے ہیں۔ ہمیں اپنا تعلیمی نظام مو ثر اور مر بو ط کر نا ہوگا اور اپنے تعلیمی اداروں پر توجہ دینی ہو گی میں طلبہ کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ تعلیم کو صرف روزگار حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ کردار کو بھی بہتر بنانے پر بھی توجہ دیں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم لندن میں جتنا ہوتا ہے اسی کے لگ بھگ کراچی میں بھی ہوتا ہے لیکن وہاں سے رپورٹ نہیں آتی اوریہاں میڈیا ہر چیز کو رپورٹ کرتا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی برائیاں ختم کرنے کے ساتھ ان کی پردہ پوشی بھی کریںآج سے 5 سال قبل پاکستان کرائم میں چو تھے نمبر پر تھا اور آج 70 ویں نمبر پر ہے بہتری کے اس سفر کو بھی مزید بہتر کر نے کی ضرورت ہے۔ ۔صوبائی وزیر نے سمندر کے قریب بسنے والی بستیو ں کا دورہ کیا سمندر ی طو فا ن” کیا ر ” سے متا ثر ہو نے والے علا قو ں کا دورہ کیا ۔علاوہ ازیں وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی چشمہ گوٹھ، ریڑھی گوٹھ اور لٹھ بستی پہنچے اور سمندری ہائی ٹائیڈ کے باعث ان گوٹھوں میں سمندری پانی کے داخل ہونے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا اس موقع پر رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ، صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ، چیئر مین ضلع کونسل سلمان عبداللہ مراد، ڈپٹی کمشنر ملیر اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود ہیںاس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ان متاثرین کو عارضی طور پر کیمپوں میں منتقل کر نا چاہتے ہیں لیکن یہاں کے لوگ اپنے گھر اور علاقہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہیںعلاقہ معززین اور یہاں کے منتخب نمائندوں کے ذریعے بھی مکینوں کو اس بات پر رضا مند کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ کچھ دن کے لیے عارضی کیمپوں میں منتقل ہوجائیں تاکہ کسی ہنگامی حالت میں کوئی جانی نقصان سے بچایا جا سکے انہوں نے کہا کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ بورڈ سمیت تمام ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں اور تمام متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کی جارہی ہے سعید غنی نے کہا کہ قدرتی آفات اللہ کی جانب سے آتی ہے اور انسانوں کے لیے آزمائش کی گھڑی ہوتی ہے سندھ حکومت ان کے شا نہ بشا نہ کھڑی ہے ۔