فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے صدر انجینئر دارو خان اچکزئی نے حکومت پر زور دیا کہ اسلا مک بینکنگ کو فرو غ دے

پر یس ریلیز
وفاق ایوانہا ئے تجا رت وصنعت پاکستان

انجینئردارو خان اچکزئی صدرایف پی سی سی آئی نے اسلامی بینکاری کے فروغ پر زور دیا۔

کرا چی (28اکتو بر2019 ) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے صدر انجینئر دارو خان اچکزئی نے حکومت پر زور دیا کہ اسلا مک بینکنگ کو فرو غ دے کیو نکہ عا لمی سطح پر اسلامک بینکنگ بڑھ رہی ہے جسکی وجہ سے ورلڈ بینک نے بھی اسلا مک بینکنگ اور فنانسنگ پر الگ سیکشن بنایاہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی بینکاری کی تو سیع اور فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہ رسک شیئر نگ اور Asset-Backed نو عیت کی خصو صیا ت رکھتی ہے اور عالمی معاشی بحران کی مدت میں بھی یہ غیر متا ثر کن رہی ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اقدامات کو بھی سر اہا جو انہو ں نے اسلامی بینکا ری کے لیے کیئے جیسا کہ سینٹر آف ایکسی لینس کا قیا م، اسلا مک شیئر انڈکس کا اجراء اور اسلامی بینکا ری کے ما تحت اداروں کے قیام کے لیے پالیسی کی تشکیل وغیرہ اہم ہیں۔

انجینئر دارو خان اچکزئی صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید وضاحت کر تے ہو ئے کہاکہ اسلامک بینکا ری عالمی ما لیاتی ما رکیٹ میں ایک ابھرتی ہو ئی فیلڈ ہے اور وقت نے بھی ثا بت کر دیا ہے کہ یہ اس وقت پو ری دنیا میں بہت تیز ی سے پھیل رہی ہے اور اس میں بڑھنے کی مز ید صلا حیتیں مو جو د ہیں۔ عالمی سطح پر اسلامک کے بینکنگ کے 2.4 assetکھرب ڈالر پہنچ چکے ہیں جبکہ پاکستان میں اسلا مک بینک کا شیئر کل بینکا ری میں 14سے15فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اسلامی بینک کے اثا ثو ں کا حجم کل بینکو ں کے اثا ثو ں کا 14.4فیصد جبکہ اسلامی بینک کے ڈپازٹس کل بینکو ں کے ڈپازٹس کے 15.9فیصد ہیں جو کہ یہ ظاہر کر تے ہیں کہ اسلا می بینکا ری کی حو صلہ افزائی اور کا رکر دگی بہتر بنا نے کے لیے خصو صی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان 95فیصد سے زائد مسلم آبادی والا ملک ہے جہا ں یہ آئینی ذمہ داری بھی ہے کہ ہما ری اقتصادی نظام غیر سو دی ہو۔ اسلامی بینکا ری سے تر قی کے وسیع موقع مو جو دہیں اگر ہم ڈپا زٹس کی تفصیلی تجز یے کے بعد اسلامی طر یقو ں سے مطابق وہاں سر مایہ کاری کر یں جہاں منا فع کی شر ح عام تجارتی بینکو ں کے مقابلے میں زیا دہ ہے کیونکہ آج کل اسلامی بینکا ری میں منا فع کی شر ح روایتی بینکو ں کے مقابلے میں کم ہے۔۔ اس وقت پاکستان میں کل اسلا می بینکا ری کے 22مالیاتی ادارے کام کر رہے ہیں جن میں 5تو مکمل طو ر پر اسلامک بینکس ہیں جبکہ 17کمر شل بینکو ں نے اسلامی بینکا ری کی مختلف شاخیں کھو لی ہو ئی ہیں۔

صدر ایف پی سی سی آئی انجینئر دارو خان اچکزئی نے مز ید کہاکہ اسلام نے سو دی نظا م پر پا بند ی عائد کی ہو ئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلامی نظام میں سر مایہ (Cost Less) ہے بلکہ اسلام سر مایہ کو منا فع شیئر نگ کی بنیا د پر استعمال کر نے کی تر غیب دیتا ہے۔ اسلام سر مائے پیداواری عنصر کے طو ر پر تسلیم کر تا ہے لیکن اس با ت کی اجا زت نہیں دیتا کہ سو د کی شکل میں پہلے سے ہی پیداواری سر پلس کو مقر ر کیا جا ئے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان میں جو غیر ملکی بینکس مو جو د ہیں انہوں نے بھی اسلامی بینکا ری کی ونڈوز بنا لی ہیں جوکہ دو سرے کمر شل بینکس کے ساتھ مقابلہ کی فضا قائم کیئے ہو ئے ہیں اس طر ح غیر ملکی بینکس نے یہ پر یکٹس یو رپی ممالک میں بھی شروع کر دی ہے جہاں ایک تہائی آبا دی مسلمانو ں کی ہے اور وہ اسلامی بینکا ری میں سر مایہ کا ری کر ناچا ہتے ہیں۔

ڈاکٹر اقبال تھہیم
سیکر یٹر ی جنرل ایف پی سی سی آئی