صرف بجلی چوروں کی وجہ سے ھم 23 روبے یونٹ بجلی خریدنے پر مجبور ہیں

صرف غریب آدمی نہیں اشرافیہ قومی ادارے میڈیا ہاؤسز بیورو کریسی سب بجلی چوری کر رھے ہیں
اس کا حل پری پیڈ میٹرز ہیں جو معمولی کمیشن پر کئی ممالک فری میں لگانے کے لئے تیار ہو جائیں گے
تیرہ لاکھ اسٹریٹ لائیٹس ہیں جو نان پروڈیکٹیو ھیں ایل ای ڈی سے ری پیلس کرکے ھزار میگا واٹ بجلی بچائی جا سکتی ھے

بھائی اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بانجھ ذھن ہیں
جبکہ زرخیز ذھن یا تو فیصلہ سازی تک رسائی نہیں رکھتے یا پھر مال بناؤ تحریک کا حصہ ہیں

یاد رکھیں اس ملک میں صرف دو قومیں رھتی ہیں ایک لٹیری اور ایک غیر لٹیری

ندیم