امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے سے نکلوائے گئے علی جہانگیر صدیقی نے شکست تسلیم نہیں کی

امریکہ میں پاکستانی سفیر کے عہدے سے عمران خان حکومت نے جس طرح علی جہانگیر صدیقی کو نکالا تھا وہ واقعی بہت تکلیف دہ عمل تھا اور عالمی سطح پر علی جہانگیر صدیقی اور ان کے گروپ کی کافی سبکی ہوئی تھی لیکن خاموش رہنے والے بھی بخوبی جانتے تھے کہ سب کچھ سیاسی بنیادوں پر ہو رہا تھا مخالفین کہتے تھے کہ تقریری بھی سیاسی تھی اور برطرفی بھی ۔ جبکہ حامی اور حمایتی کہتے تھے کہ اس باپ بیٹے نے نہ پہلے شکست تسلیم کی نہ اب کریں گے اور اب تو علی جہانگیر صدیقی صرف بیٹا نہیں ہے بلکہ داماد بھی بن چکا ہے اور سسر نے بھی طویل لڑائی لڑی ہے سسر کی بھی لڑائی کی اپنی تاریخ ہے ہمیشہ نہ ہارنے اور شکست تسلیم نہ کرنے کی ۔اور اب داماد بھی اسی راستے پر چل پڑا ۔تھوڑے ہی عرصے بعد علی جہانگیر صدیقی کو یوٹرن ایکسپرٹ وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے سفیر برائے بیرونی سرمایہ کاری مقررکردیا -۔ جسے امریکہ سے نکلوایا گیا تھا وہی علی جہانگیر صدیقی امریکہ میں وزیراعظم عمران خان کے پہلے عظیم الشان جلسے اور پھر شاندار استقبال اور ملاقاتوں کا اہتمام کرنے میں پیش پیش نظر آیا ۔یہ بھی قدرت کی شان ہے ۔ علی جہانگیر صدیقی اور ان کے گروپ کے ساتھ پی ٹی آئی حکومت کے تعلقات کا نشیب وفراز دلچسپ اور حیرت انگیز ہے ۔گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ ۔ پرسانا نان گریٹا  بننے کے بعد سفیر برائے بیرونی سرمایہ کاری بننے تک کا سفر علی جہانگیر صدیقی نے کیسے طے کیا اتنی جلدی ناپسندیدگی کی حدود سے واپسی اور پسندیدہ شخصیات میں شمولیت ۔یہ کوئی معمولی بات ہرگز نہیں ہے آخر کچھ تو کرشمہ ساز قوت ہے جس نے اپنا اثر اور رنگ دکھایا ۔ آخر یہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے جس نے علی جہانگیر صدیقی کو اچانک بلندی سے کھائی میں گرنے کے بعد دوبارہ نہ صرف سنبھالا دے دیا ہے بلکہ ایک مرتبہ پھر آسمان پر اونچی اڑان بھرنے کا بےمثال موقع بھی فراہم کر دیا ہے اس منفرد اور عجیب منظر نامے میں علی جہانگیر صدیقی کو اتنی اہمیت کیس وجہ سے حاصل ہوئی اکثر لوگوں کے لیے یہ بات ابھی تک ایک معمہ ہے لوگ اندازہ لگا رہے ہیں کہ عزت داؤ پر لگ جانے کے بعد کیسے اپنے خزانوں کا منہ کھولا گیا ہوگا کتنی دولت لٹا دی گئی ۔کس کس کی خدمات حاصل کی گئیں کیا کوئی ٹک ٹاک حسینہ کا م آ ئی یا بزرگوں کے مزاروں پر مانگی گئی منت قبول ہوئی ۔کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔دونوں جانب  رسائی رکھنے والے بعض باخبر لوگوں کا دعوی ہے کہ علی جہانگیر صدیقی کو اپنوں کے ساتھ ساتھ غیروں سے بھی ریلیف ملا ہے یہ کون سی شخصیات ہیں اس بارے میں آنے والے مضمون میں مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی فی الحال تو اتنا جان لیجئے کہ علی جہانگیر صدیقی کی کوششوں سے ہانگ کانگ کی ہیچی سن پورٹ ہولڈنگ کمپنی نے کراچی پورٹ پر ٹرمینل کی استعداد میں اضافے کیلئے 240 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا بڑا اعلان کردیا ہے اور جلد سرمایاکاری بڑھ کر ایک ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی کمپنی کے وفد نے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی جہاں علی جہانگیر صدیقی کی کافی تعریف کی گئی ۔
 jeeveypakistan.com














اپنا تبصرہ بھیجیں