کروڑوں روپے کی گندم کرپشن ۔مل مالک کی اینٹی کرپشن حکام کو دھمکیاں

گندم کی خود بر د میں  ملوث مل مالک کی اینٹی کرپشن حکام کو دھمکیاں اور کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش ۔مقدمے کی واپسی کے لیے سابق جنرل نصیر اختر کا چیف سیکرٹری کو خط ۔آغا اسد کو شہہ مل گئی ۔روزنامہ امت کے رپورٹر سےار شاد کھوکھر حقائق سامنے لے آئے ۔امت کی رپورٹ کے مطابق اینٹی کرپشن کی جانب سے کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری گندم  خردبرد کرنے کے خلاف پاک جنید فلور مل کے مالک آغا اسد کے خلاف درج مقدمے سے بچانے کے لئے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نصیر اختر بھی میدان میں آگئے ہیں جنہوں نے چیف سیکریٹری سندھ کولیٹر ارسال کرتے ہوئے ایف آئی آر واپس لینے کے لیے دباؤ بڑھایا ہے جبکہ مل مالک نے اسی بل بوتے پر اینٹی کرپشن حکام کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے لیکن اینٹی کرپشن حکام نے اس کے دباؤ میں آئے بغیر ایسی کوششوں کو کے اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں عدالت کو لیٹر ارسال کرنے پر بھی غور شروع کردیا ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کی پاک جنید فلور مل میں تقریبا تیس ہزار بوری گندم پر پائی گئی تھی جس میں سے زیادہ تر گندم ملی بھگت سے خوردبرد کرکے بیچ کھائیں گی اس سلسلے میں محکمہ خوراک نے جب انکوائری شروع کی تو پاک جنید فلور مل کے مالک نے عدالت سے رجوع کرکے تسلیم کیا کہ ان کی مل میں سرکاری گندم رکھی گئی تھی جن میں سے زیادہ تر گندم کی رقم ادا کی گندم کا کچھ ذخیرہ خراب ہوگیا انہوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ مل میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگنے کے باعث گندم کے ذخائر مل گئے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت محکمہ خوراک کے افسران نے جب ان کی مل کا دورہ کیا تو نے ایسا معاملہ نظر نہیں آیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں