کے الیکٹرک بجلی چوری روکنے میں ناکام ۔بلدیہ میں 530 کلوگرام کنڈم استعمال ہونے کا اعتراف

شہری مہنگی بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس کی ایک بڑی وجہ شہر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بجلی کی چوری ہے جسے روکنے میں کے الیکٹرک بری طرح ناکام ہے ۔بجلی چوری میں عادی شہریوں کے ساتھ ساتھ کے الیکٹرک کے عملے کی ملی بھگت بتائی جاتی ہے ۔انتظامیہ نے بجلی چوری روکنے کے لیے تاریں تبدیل کرنے کا عمل شروع کیا تھا اس پروگرام پر کافی تنقید بھی کی گئی تھی لیکن بتایا گیا تھا کہ طاری تبدیل ہونے کے بعد بجلی کی چوری میں کمی آئے گی اور کنڈے نہیں لگ سکیں گے لیکن اس کے باوجود شہر میں بجلی چوری اور کنڈے لگانے کے واقعات میں کمی نہیں آئی اور عید کے الیکٹرک نے اعتراف کیا ہے کہ صرف بلدیہ کے مختلف علاقوں میں 530 کلوگرام کنڈے استعمال ہو رہے تھے جن کے ذریعے بڑے پیمانے پر بجلی چوری کی گئی کے الیکٹرک کا دعویٰ ہے کہ ان 530 کلوگرام غنڈوں کو ہٹا دیا گیا ہے اور یہ کام آسان نہیں تھا اس کے دوران سخت مزاحمت بھی سامنے آئی سیکٹر نائن ایف اور سیکٹر 9 ای سے 150 کلوگرام کنڈے ہٹائے گئے ۔اسی طرح سیکٹر 12 اسی اور سیکٹر 14 اے اور بی کی جانب سے بجلی کمپنی کے عملے کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا وہاں پر آپریشن کے دوران تقریبا آٹھ سو تیس کلو گرام وزنی کنڈے ہٹا دیے گئے کے الیکٹرک کا دعویٰ ہے کہ یہ غیر قانونی کنڈے ہٹا دیے گئے ہیں جو بجلی چوری کے علاوہ شہر میں حادثات کا سبب بنتے ہیں اتنے بڑے پیمانے پر کنڈے ہٹائے جانے کا دعوی اور اعتراف اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ شہر میں بڑے پیمانے پر بجلی چوری کی گئی اب شہریوں کا سوال یہ ہے کہ چوری شدہ بجلی کا بل کس کے کھاتے میں جائے گا عام طور پر کمپنی اسے لائن لاسز میں شمار کے اس کا دل بھی شہریوں سے ہی وصول کرتی ہے جو باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں ۔کیا کہ الیکٹرک کے ماہرین یہ بات بتا سکتے ہیں کہ 800 کلو گرام سے زائد وزنی کنڈے اگر بجلی چوری کرنے میں استعمال ہو رہے تھے تو روزانہ کم از کم کتنی مالیت کی بجلی چوری کی گئی اور ماہانہ کتنی بجلی چوری ہوئی اور سالانہ کتنی بجلی چوری ہوسکتی ہے اور یہ سارا بال کون ادا کرے گا وہ شہری چوری شدہ بجلی کا بل کیوں ادا کریں جو اپنی استعمال شدہ بجلی کے بل کو پہلے ہی مہنگے داموں بل ادا کر رہے ہیں ۔