پاکستان پیپلز پارٹی اتوار کے روز سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے کراچی سے شروع ہونے والے احتجاجی مارچ میں بھرپور شرکت کرے گی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اتوار کے روز سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے کراچی سے شروع ہونے والے احتجاجی مارچ میں بھرپور شرکت کرے گی اور اتوار کی صبح سہراب گوٹھ پر نہ صرف مارچ کے شرکاء کا بھرپور استقبال کیا جائے گا بلکہ وہان جلسہ اور بعد ازاں وہاں سے روانگی کے موقع پر بھی ان کو بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔ میاں محمد نواز شریف کی تشویش ناک صحت پر ہمیں شدید پریشانی ہے، ہم ان کی صحتیابی کے لئے دعا گو ہیں۔ نواز شریف کی صحت کو اس نہج تک پہنچانے کے براہ راست ذمہ دار عمران نیازی ہیں۔ عمران نیازی اب اپنی سیاسی انتقامی اور نفرت کے باعث اپنے مخالفین کی جانوں سے بھی کھیلنا شروع کردیا ہے۔ عمران نیازی اس وقت مشرف کی پالیسیوں پر کارفرما ہے اور اس کی سوچ وہی آمرانہ سوچ ہے، جو آج مشرف کی اس وقت کی ٹیم کی تھی۔ اگر اس ملک میں قانون اور انصاف کے تحت احتساب کیا جائے تو ہمارے تمام گرفتار رہا اور نیازی کی ٹیم جیلوں میں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن جاوید ناگوری اور نائب صدر کراچی ڈویژن سردار خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کی صوبائی قیادت نے رابطہ کیا اور ہمیں اپنے اتوار سے ہونے والے مارچ حتمی پروگرام دیا ہے، جس کے تحت اتوار کی صبح 10 بجے سہراب گوٹھ سے مارچ کا آغاز ہوگا، جہاں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر اعلیٰ قیادت وہاں خطاب کریں گے اور اس کے بعد مارچ وہاں سے روانہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مارچ کی پہلے ہی حمایت کا اعلان کیا ہے اور اتوار کو پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کی پوری قیادت صبح سہراب گوٹھ پر مارچ کے شرکاء کا نہ صرف استقبال کرے گی بلکہ اس جلسہ میں بھی شرکت کرے گی اور مارچ کو روانہ بھی کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ مارچ کے شرکاء جامشورو، حیدرآباد اور اندرون سندھ کے جن جن اضلاع سے نکلیں گے پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت ان کا استقبال کرے گی۔ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی کسی ڈیل کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ ہمیں میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش ہے۔ انہوں نے کہاکہ خود حکومتی ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کی حالت کو تشویش ناک قرار دیا ہے اور ایسی صورتحال میں ان کی رہائی کو ڈیل کم از کم میں قرار نہیں دے سکتا اور جہاں تک آصف علی زرداری یا پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی بات ہے ہم نے جو تکالیف اور مصیبتیں جھیلنا تھی وہ شہ لی ہیں اب ہمیں کسی قسم کی کوئی ڈیل کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کی خرابی کی براہ راست ذمہ داری عمران نیازی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کی سیاسی انتقامی کارروائی اور اس کی مخالفین سے نفرت نے آمروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضیاء الحق جیسے آمر نے بھی کسی کی جان سے نہیں کھیلا لیکن عمران نیازی اپنے سیاسی مخالفین کی جان سے کھیلنے کے درپے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے جہاں آصف علی زرداری کو ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور کرنے کے لئے ان کی بہن فریال ٹالپور کو گرفتار کرایا وہاں اس نے نواز شریف کو کمزور کرنے کے لئے اس کی بیٹی مریم نواز کو گرفتارکرایا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عمران خان اور ان کی پوری ٹیم مشرف کے آلہ کار بنی ہوئی ہے کیونکہ اس وقت عمران نیازی کے پاس جو ٹیم ہے وہ مشرف کی ہے ٹیم ہے اور ان کی سوچ بھی وہی آمرانہ سوچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی عمران نیازی جو فیصلے کررہا ہے وہ مشرف اور ان کے چیلو کو بچانے کے لئے ہے ورنہ جس شخص پر ملک کے سب سے بڑے جرم آئین کی آرٹیکل 6 کا کیس ہو اس کو ختم کرنے کے لئے جو حربے استعمال کئے جارہے ہیں وہ صرف اور صرف اس آمر کو بچانے کے لئے ہی ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ حافظ حمد اللہ کی شہریت کو منسوخ کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص 5سال وزیر رہا ہو، 6 سال سینیٹر رہا ہو۔ اس کا والد 1970 میں سرکاری اسکول میں استاد ہو اور جس کے بھائی اس وقت بھی سرکاری اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں تو ایسے انسان کو غیر پاکستانی قرار دینا موجودہ نالائق اور نااہل حکمرانوں پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہاکہ حافظ حمد اللہ کو نادرا کے خط کے ذریعے شہریت ختم کرنے کے بعد پمرا کے ذریعے ان کی ٹی وی پر آنے سے روکنے سے صاف ظاہر ہے کہ حافظ حمد اللہ کے ٹی وی پر آنے سے موجودہ نااہل حکمرانوں کو مشکلات پیش آرہی تھی اور اس کو روکنے کے لئے اس کی شہریت ختم کی گئی ہے، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ مراد علی شاہ کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ان کی گرفتاری کی خواہش بہت سے دوستوں کو ہوسکتی ہیں لیکن اگر آئین اور قانون کے تحت احتساب کیا جائے تو ہمارے تمام گرفتار رہا اور پی ٹی آئی والے جیلوں میں ہوں گے۔