پاکستان کی تاریخ کابدترین حکمران ضیاءالحق تھا اس نے بھی صحت کی سہولیات دی

کراچی 26 اکتوبر : صوبائی وزیر اطلاعات ومحنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کل جے یوآئی کاآزادی مارچ کراچی شہرسے شروع کیاجارہا ہے۔کل صبح دس بجے سہراب گوٹھ سے قافلہ روانا ہوگا۔پیپلزپارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ آزادی مارچ جس ضلعے سے شروع ہوگا کارکنان استقبال کریں گے اورشریک ہونگے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتے کے روز پریس کانفرنس کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ کل ہم کراچی ڈویژن کی طرف سے ہم بڑی تعداد میں جاکر جلسے میں شریک ہونگے۔صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ آزادی مارچ کا اگلااستقبال جامشورو میں ہوگا۔ ان کا مزید کہناتھا کہ میاں نوازشریف کی طبیعت جس نہج پرپہنچی ہے اس کے ذمہ دارعمران خان ہیں۔ انہوں نے ان کی جان سے کھیلنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق نوازشریف اورآصف علی زرداری کو سہولیات نہیں دی گئیں ۔سعید غنی نے کہا کہ نواز شریف کو تنگ کرنے کے لئے مریم نواز او آصف زرداری کو تنگ کرنے کے لئے فریال ٹالپور کو گرفتار کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کابدترین حکمران ضیاءالحق تھا اس نے بھی صحت کی سہولیات دی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اندرجنرل مشرف کی روح ہے۔عمران خان کے فیصلہ ساز لوگ مشرف کے لوگ ہیں۔سعید غنی نے کہا کہ نوازشریف کی طبیعت انتہائی خراب ہے ۔اس موقعے پر ڈیل کی بات نہیں کرنی چاہیئے۔صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ پیپلزپارٹی ڈیل کا تصوربھی نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مشکلات جھیل لی ہیں۔ہم صرف آصف علی زرداری کی صحت کے لئے فکرمند ہیں۔سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ علیمہ خان کی طرح ڈھیل دی جائے۔انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں۔صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ پی ایس گیارہ پر جے یوآئی نے حمایت نہیں کی۔جے یوآئی کے امیدوارمعظم عباسی اگر جے یوآئی کے امیدوارتھے تو امید ہے کہ جے جے یوآئی کے آزادی مارچ میں نہ صرف شریک ہونگے ،بلکہ استقبال بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے لئے ڈاکٹرز رپورٹس کافی ہیں۔وہ حقیقتا بیمارہیں دعاکرتے ہیں کہ جلد صحتیاب ہوں۔وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہاکہ پی ایس گیارہ کے انتخابات اس مارچ کے سامنے چھوٹی حیثیت ہے۔الیکشن میں جے یوآئی کا فیصلہ غلط تھا اس پر مولانا کو سوچنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ میری معصومانہ خواہش ہے راشد محمود سے مطالبہ ہے امید ہے کہ معظم عباسی ان کا استقبال کریں گے اور اسلام آباد بھی جائیں گے۔نواز شریف کے بیٹے نہیں آئے اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ ہر حکومت کا حق ہے کہ قانون اور آئین کے دائرے میں ہونے والے احتجاج کو سیکورٹی دیں۔انہوں نے کہا کہ تھریٹ تو ہر سیاسی رہنماءکو ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی والنٹیئر اور حکومت دونوں اس ضمن میں کام کرتے ہیں۔اگر تھریٹ ہیں تو اس پر سیاسی سرگرمی بند کی جائے یہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر کھڑا ہونا غلط نہیں الگ الگ ہونا درست نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ مشرف کا کیس ختم کرنا باعث تشویش ہے۔عمران خان کی حکومت میں جنرل مشرف کے چیلے ان کو بچانے کے اقدامات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجائے اس کے کہ اس نامزد شخص کا کیس ختم کر کے مخالفین کو جھوٹے کیس میں نامزد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ کی شہریت ختم۔ختم کرنا غلط رواج اور نادرا کو حکومت نے استعمال کیا ہے۔حافظ حمداللہ کا والد پاکستان کا سرکاری ملازم تھے بڑے بھائی بھی سرکاری ادارے میں ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ حمداللہ صاحب کے حوالے سے پہلے کیوں تحقیقات نہیں کی گئی۔صرف غیر ملکی قراردینا تو الگ یکطرفہ خط جاری کرنا پیمرا کو خط جاری کرنا بھی ان کی خوف کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے پوری دنیا میں تماشہ بنے گا اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ مراد علی شاھ کی گرفتاری کچھ لوگوں کی خواہش ضرور ہوگی مگر قانون کے تحت کاروائی ہوگی تو سب رہا ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ انصار السلام پر پابندی ہو یا کوئی اور ہم جو بھی کریں گے قانون کے تقاضے دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ ہینڈآو ¿ٹ نمبر ۔۔۔ 981

       

 
 

            

اپنا تبصرہ بھیجیں