پاکستان کے قابل فخر سپوت ۔پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدیر خان راجپوت

حکومت سندھ کی چارٹر انسپکشن اینڈ ایو یلیواشن کمیٹی (CIEC ) کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدیر خان راجپوت کا نام ملک کے تعلیمی حلقوں کے لیے کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے انہوں نے مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی( MUET) جامشورو کے وائس چانسلر کی حیثیت سے شاندار خدمات انجام دے کر شہرت حاصل کی اور اپنے ادوار میں یونیورسٹی کو گمنامی سے نکال کر ایک سرکردہ اور کامیاب یونیورسٹی کی حیثیت اور مقام پر لا کھڑا کیا ۔انہوں نے اپنی ذہانت, قابلیت, محنت اور خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یونیورسٹی کو نہ صرف انتظامی اور مالی بحران سے نکالا بلکہ تدریسی میدان میں بھی یونیورسٹی کو آگے بڑھایا – طلبہ اور اساتذہ کے لیے ایک بہترین پرامن اطمینان بخش ماحول زبردست سہولتیں اور کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کو یقینی بنایا –

ان کی اولین ترجیح یہ تھی کہ یونیورسٹی کو ہر اعتبار سے قابل فخر ادارہ بنا کر مثالی مقام دلایا جائے تاکہ یہاں داخلہ لینے والے خود کو ہمیشہ خوش قسمت تصور کریں اور یہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کریں اور انہیں خود پر ہمیشہ ناز رہے کہ انہوں نے مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے تعلیم حاصل کی ہے ۔آج بطور چیئرمین CIEC وہ مختلف یونیورسٹیوں کی انسپکشن کرتے ہیں ان کے ہمراہ تجربہ کار ذہین شخصیات کا پورا وفد  ہوتا ہے وہ یونیورسٹی کے اکیڈمی پروگرام ،تعلیمی سرگرمیوں ،ایڈمیشن پالیسی ،ایگزامینیشن سسٹم ،لائبریری ،لیب ،اسپورٹس ،کینٹین کی سہولتوں کا جائزہ لیتے ہیں اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت کی معلومات حاصل کرتے ہیں ۔مختلف یونیورسٹیز کی انسپیکشن کے دوران سامنے آنے والی بعض کمزوریوں اور کمی بیشی کے معاملات کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ ان میں بہتری لائی جائے ۔یونیورسٹی کی فیکلٹیز اور منسلک انسٹیٹیوٹس کے بارے میں انتظامیہ خود آگاہی دیتی ہے اکیڈمی اور پروفیشنل ٹریننگ کا جائزہ لیا جاتا ہے بورڈ آف گورنرز ڈائریکٹرز کے بارے میں یونیورسٹی انتظامیہ بتاتی ہے موجودہ ٹیکنالوجی اور نئے اپ ڈیٹس کے تناظر میں یونیورسٹی کے نصاب کے بارے میں اقدامات کا جائزہ لیا جاتا ہے ہر یونیورسٹی کی انتظامیہ اپنے اقدامات اور کاوشوں کے بارے میں بریفنگ دیتی ہے یونیورسٹی کی جانب سے منعقد کرائے جانے والے ٹریننگ سیشن سیمینار ورکشاپس کے بارے میں بتایا جاتا ہے

جن کے ذریعے طلبہ کو عملی زندگی میں آگے بڑھنے کی تربیت اور آگاہی ملتی ہے تمام ڈین ،ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس ،ڈائریکٹر اکیڈمکس ،رجسٹرار ،کنٹرولر ایگزامینیشن اور دیگر سینئر آفیسرز کے بارے میں بتایا جاتا ہے ۔پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدیر خان راجپوت کی بیس سے زیادہ ریسرچ ورکس اور 30 سے زیادہ سائٹیشنز اور 555 ریڈ ان کی قابلیت اور خدمات کا پتا دیتی ہیں ۔حکومت سندھ کی جانب سے انھیں شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ فرزانہ جمالی ہراسمنٹ کیس کی انکوائری کمیٹی کا سربراہ بھی بنایا گیا تھا اور ان کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ھی عدالتی فیصلہ سامنے آیا تھا ۔پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدیر خان راجپوت بنیادی طور پر ایک ہمدرد شفیق اور مخلص انسان ہیں اصول پسند اور صاف گو ہیں قانون کی عملداری اور بالادستی پر یقین رکھتے ہیں ملک اور قوم کی ترقی کے لیے بہترین تعلیمی ماحول اور سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیتے آئے ہیں اس سلسلے میں ان کے اقدامات کاوشیں اور خدمات قابل قدر اور قابل تعریف ہیں ۔صوبائی حکومت میں مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور دیگر اہم عہدوں پر تقرریوں کے لیے بنائی گئی سرچ کمیٹی کا انہیں سربراہ مقرر کر رکھا ہے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا گیا ہے ۔سرچ کمیٹی چیئرمین  پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدیر راجپوت اور پانچ مستقل ممبران پر مشتمل ہے ۔ پاکستان کی سرکردہ نیوز ویب سائٹ جیوے پاکستان ڈاٹ کام  پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدیر خان راجپوت کی قومی خدمات کو قابل  تعریف اور قابل رشک مانتے ہوئے مستقبل میں ان کی مزید کامیابیوں اور نیک نامی کے لئے دعا گو ہے ۔jeeveypakistan.com – report
| | Virus-free. www.avast.com |