مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ’ حکومتی بوکھلاہٹ’ اسلام آباد جانے والے تمام راستے بلاک کرنے کا انتظام’ عوام میں بے چینی

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ’ حکومتی بوکھلاہٹ’ اسلام آباد جانے والے تمام راستے بلاک کرنے کا انتظام’ عوام میں بے چینی

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ قریب آ رہا ہے حکومت کی بوکھلاہٹ بڑھتی جا رہی ہے اور انتظامی ،تعزیری کارروائیوں اور پیشگی اقدامات کے ذ ریعے مجوزہ مارچ کو سبوتاژکرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما اکرم درانی کے گرد نیب کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

یہاں سوال پیداہوتا ہے کہ حکومت اتنی حواس باختہ کیوں ہو گئی ۔بالخصوص جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ مولانا اسلام آباد میں جلسہ کریں گے جس میں مسلم لیگ (ن) نے بھی شرکت کا فیصلہ کیا ہے فی الحال دھرنا ان کے پروگرام میں شامل نہیں ۔جہاں تک بلاول بھٹو کا تعلق ہے وہ بھی لانگ مارچ کے حامی ہیں لیکن وہ اس میں شرکت کے بجائے ملک بھرمیں جلسے کر رہے ہیں۔ان کا صاف کہنا ہے کہ ایسی صورتحال نہ پیدا کی جائے جس سے تیسری قوت کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے ۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ دھرنے سے حکومتیں نہیں جاتیں لیکن دوسری طرف مولانا کی یلغار کو روکنے کے لیے انتظامی اور تعزیری ہتھکنڈے عروج پر ہیں ۔

کنٹینر اسلام آباد پہنچائے جا رہے ہیں اور اسلام آباد جانے والے تمام راستے بلاک کرنے کا انتظام کیا جارہا ہے ۔جے یو آئی کے سینیٹر عطاء الرحمن نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ آزادی مارچ روکنے کے لیے لگائے گئے کنٹینروں کو اڑا کر رکھ دیں گے۔ ہذیانی کیفیت پر مولانا نے اپنی شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے درست سوال اٹھایا کہ ایک طرف تو مذاکرات کی دعوت جبکہ دوسری طرف دھمکیاں دی جا رہی ہیں، دھمکیاں اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ، مولانا کا اصرار تھا کہ وہ رکنے والے نہیں ہیں۔ اپوزیشن کے ہاتھ پیچھے باندھ کر مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں ،شاید اسی لیے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے مذاکرات کی دعوت مسترد کر دی تھی ۔ وزیراعظم عمران خان بھی مختلف مواقع پر اپوزیشن کے آزادی مارچ کے حوالے سے بیزاری کا اظہار کر چکے ہیں ، کھلاڑیوں کی ایک تقریب میں تو انھوں نے انتہائی تضحیک آمیز انداز میں کہہ دیا کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے ۔ بد قسمتی سے خان صاحب کا اپوزیشن کے ساتھ پہلے روز سے ہی رویہ ہتک آمیز ہے ۔ پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ (ن) ،عوامی نیشنل پارٹی ،پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور اب مولانا کو کرپٹ اور نااہل قرار دے کر ان سے ہاتھ ملانا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔ یہ بھی طرفہ تماشا ہے کہ انہی پارٹیوں سے توڑے ہوئے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور ان کے حلیف ایم کیو ایم یا مسلم لیگ (ق ) کے ارکان تحریک انصاف میں وضو کر کے پاک صاف ہو گئے ہیں ۔

 

پہلے تو یہ کہا جاتا تھاکہ جی آیاں نوں ‘مولانا آئیں ہم انھیں کنٹینر بھی دیں گے اور کھانا بھی کھلائیں گے ،جتنی دیر دھرنا دینا ہے ،دیںلیکن نہ جانے کیوں وہ پارٹی جو 2014 ء میں 126دن تک اسلام آباد کے ڈی چوک میںدھرنا دیئے بیٹھی رہی نے بغلیں جھانکنی شروع کر دیں ۔ اس دوران پارلیمنٹ اور پی ٹی وی کے ہیڈکوارٹرز پر یلغار بھی ہوئی لیکن اس وقت کی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اسلام آباد کے عین قلب میں بیٹھے ہوئے عمران خان اور اس وقت کے ان کے سیاسی کزن علامہ طاہر القادری کے دھرنوں کو ریاستی طاقت کے ذریعے توڑنے کی کوشش نہیں کی ۔

تمام نیوز چینلز صبح شام خان صاحب کی تقریروں کو لائیو دکھاتے رہے لیکن اس وقت کی پیمرا نے میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگائی ۔ اب جبکہ تحریک انصاف خود حکومت میں ہے ،اس کی قوت برداشت جواب دیتی جا رہی ہے حالانکہ اب پکڑ دھکڑ کے بجائے مذاکرات پر بات پر ہونی چاہیے کہ مولانا فضل الرحمن ان کے حمایتی اور اتحادی پرامن طریقے سے اسلام آباد آئیں ، اپنا جلسہ ،جلوس کریں اور واپس چلے جائیں اور بالآخر بجائے سیاستدان بیٹھ کر آپس میں معاملات طے کرتے آرمی چیف کو مبینہ طور پر مولانا سے بات کرنا پڑی۔ جس اندازسے ملک میں ناقص گورننس اور اکانومی کا برا حال ہو نے کی بناپر عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے

غالباً حکمرانوں کو اس کا ادراک ہی نہیں اور ہو بھی کیسے؟عمران خان نے تو خود کو بنی گالہ اور وزیراعظم سیکرٹریٹ تک ہی محدود کر لیا ہے ۔ ان کی قریبی مشیروں پر مشتمل کچن کیبنٹ اور کابینہ کے اجلاس میں مبارک سلامت کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں لیکن پارلیمنٹ جہاں شاید کچھ زمینی حقائق کا بھی علم ہو جائے اس کا رخ کرنا ان کی ترجیحات میںشامل نہیں ۔میڈیا بھی خو د کو جکڑا ہوا محسوس کرتا ہے ۔اس کے باوجود جو تھوڑا بہت سچ لکھا اور بولا جا رہا ہے اس پر بھی غور کر لیں تو ان پر یہ عقدہ کھلے گا کہ پاکستان ایک سیاسی ملک ہے ،جمہوریت کے ذریعے معرض وجود میں آیا ہے جہاں قائداعظم کے افکار کے مطابق ڈائیلاگ، کچھ لو اور کچھ دو اور برداشت کا مادہ پیدا کئے بغیر ملفوف آمریت کی شکل میں زیادہ عرصہ حکومت نہیں کی جا سکتی