امریکی اراکین کانگریس نے واشنگٹن میں بھارتی سفیرہریش وردھان کوخط لکھ دیا

امریکی اراکین کانگریس ڈیوڈ سیسی لائن،دیناٹائی ٹس اور کریسی ہولاہان نے بھارتی سفیر ہریش وردھان کو خط لکھا جس میں پوچھا گیا کہ کیا مقبوضہ کشمیرمیں مواصلاتی نظام مکمل طور پر بحال ہو گیا؟مقبوضہ کشمیرمیں موبائل فون سروس مکمل طور پر کب بحال ہو گی؟مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کب بحال ہو گی؟ اور 5 اگست کے بعد سے اب تک کتنے لوگ مقبوضہ کشمیر میں گرفتار ہوئے ہیں؟مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں میں کتنے بچے شامل ہیں؟ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار افراد کو کس قانون کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ خط میں مزید کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت کیلیے حکومت کی کیا حکمت عملی ہے؟غیرملکی صحافیوں کو مقبوضہ وادی میں کیوں نہیں جانے دیا جا رہا؟مقبوضہ وادی میں صحافیوں کو داخلے کی اجازت کب دی جائے گی؟مقبوضہ وادی میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے ربڑ کی گولیاں استعمال کرنے کی اطلاعات ہیں،ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں مظاہرین ربڑ کی گولیوں سے بینائی کھو بیٹھے،کیا اب بھی مقبوضہ وادی میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کیلیے ربڑ کی گولیاں استعمال کی جا رہی ہیں؟کیا بھارتی حکام بچوں سمیت نابینا ہونے والے کشمیریوں کی تعداد بتا سکتے ہیں؟پرامن مظاہرین کے حقوق کیلیے بھارت کیا اقدامات کر رہا ہے؟امریکی اراکین کانگریس کا خط میں مزید کہنا تھا کہ حقائق تب سامنے آئیں گے جب صحافیوں اور ارکان کانگریس کو آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت ہو گی،توقع ہے مقبوضہ وادی میں غیرملکی صحافیوں اور آزاد نمائندوں کو جانےکی اجازت ہوگی۔