اگر کراچی آگے بڑھتا ہے (معیشت کے حوالے سے) تو سارا ملک آگے بڑھتا ہے , سید مراد علی شاہ

کراچی  :  سید مراد علی شاہ  نے کہا ہے کہ اگر کراچی آگے بڑھتا ہے (معیشت کے حوالے سے) تو سارا ملک آگے بڑھتا ہے لہٰذہ کراچی کو  تیزی سے ترقی دینے کی ضررت ہے جس کے لیے وہ  مقامی وسائل  اور  ڈونر اینجنسیز کے ماہرین اور وسائل کے استعمال کے لیے کوشاں ہیں تاکہ کراچی کو ایک پرامن اور خوشحال شہر  بنایا جاسکے۔ انھوں نے یہ بات آج چائنا کی سرکاری کمپنی انرجی چائنا کے آٹھ رکنی وفد   جسکی قیادت اسکے صدر لیو بکس ژیان کررہے تھے  سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔ ملاقات میں  سندھ حکومت کے ساتھ پانی کے شعبے اور کراچی میں پانی کی تقسیم  کے سلسلے میں ملکر کام کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔  اجلاس میں کے فور منصوبہ جوکہ اسکے ڈزائین میں ضروری تبدیلیوں کے باعث عارضی طور پر   روکا گیا ہے کے بارے میں غور کیا گیا۔ نیشنل انجنئرنگ فرم، نیسپاک اسکے ڈزائین پر کام کررہی ہیں اور جیسے ہی اسے حتمی شکل دے دی جائے گی تو کام شروع ہوجائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کے فور نہایت اہمیت کا حامل منصوبہ ہے اور اسے مکمل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ کراچی 17 ملین آبادی پر مشتمل شہر ہے اور اسکی پانی کی ضروریات کا تخمینہ 1200 گیلن روزانہ ہے مگر صرف  500 ایم جی ڈی روزانہ مل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم شہر کو بلک پانی کی فراہمی میں اضافے کے مختلف طریقوں پر کام کررہے ہیں تاکہ  اسکی گھریلو اور صنعتی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ اجلاس میں  مل کر کام کرنے کے حوالے سے مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔  حب ریور سورس کنوینس سسٹم میں بہت زیادہ نقائص و غلطیاں ہیں لہٰذہ لائین لاسز توقع سے بہت زیادہ ہیں۔ چائنیز کمپنی نے حب سے کراچی کو پانی کے فراہمی کے نظام میں بہتری لانے کے حوالے سے دلچسپی ظاہر کیا۔ چائنیز کمپنی نے   وزیراعلیٰ سندھ کی درخواست پر کہا کہ وہ  کراچی میں 100 ایم جی ڈی ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے کے لیے تخمینی لاگت کے ساتھ ساتھ دیگر تفصیلات پر بھی کام کریں گے۔ واضح رہے کہ ماضی میں ڈی سیلینیشن ٹیکنالوجی غیر منافعہ بخش رہی تھی  مگر اب جدید ٹیکنالوجی معاشی لحاظ سے بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ مزید مؤثر بھی ہے۔  تیسری تجویز جوکہ زیر غور آئی وہ ملیر ندی میں ویسٹ واٹر   کے ٹریٹمنٹ کی تھی جوکہ صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ چائنیز کمپنی نے کہا کہ وہ سندھ حکومت کے لیے ویسٹ واٹر کے ٹریٹمنٹ کے لیے پلانٹ لگانے کے لیے کام کریں گے۔  چائنیزفرم کو  بتایا گیا کہ  صوبائی حکومت کے فور فیز 1، پر ایف ڈبلیو او کے ساتھ کام کررہی ہے لہٰذہ چائنیز فرم نے کے فور کے  فیز 2 اور فیز 3 میں کام کرنے کی دلچسپی ظاہر کی اور تجویز پیش کی کہ اگر منصوبے کی لاگت بہت زیادہ ہوجاتی ہے تو اسے سی پیک کے منصوبوں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔  وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ مختلف شعبوں مثلاً انفراسٹرکچر ، پانی  و صفائی اور انرجی  پر کام کررہے ہیں تاکہ  مختلف شعبوں میں حقیقی سرمایہ کاری کو ممکن بنایا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ جب آپ کے پاس بہترین انفرااسٹرکچر ، پانی اور انرجی اضافی ہوگا تو  سرمایہ کار  لازمی یہاں سرمایہ کاری کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ  یہی وجہ ہے کہ وہ شہر کے انفرااسٹرکچر کی ترقی اور پانی کی قلت کے مسائل کے حل کے لیے کام کررہے ہیں ۔ مراد علی شاہ نے محکمہ منصوبابندی و ترقیات کو ہدایت کی کہ وہ چائنیز فرم کے ساتھ  ایک اور اجلاس منعقد کریں اور پانی کے شعبے میں مل کر کام کرنے کے حوالے سے سفارشات مرتب کریں۔ فوڈ پراسیسنگ انڈسٹری: نیدرلینڈ کے سفیر ولیم واؤٹر پلمپ کے ساتھ  ہونے والی ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انکے ساتھ کراچی میں فوڈ پراسیسنگ انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ سفیر نے کہا کہ انکے پاس فوڈ پراسیسنگ کے انڈسٹریل ماہرین موجود ہیں جنھیں دنیا جانتی ہے   اور وہ سندھ میں کام کرنے اور سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں ۔ انھوں نے زراعت، مویشیوں کی نشونما اور ہائبریڈ سیڈ کی پیداوار میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ اور نیدرلینڈ کے سفیر نے اپنے ملک کے سرمایہ کاروں کی سندھ کے محکمہ سرمایہ کاری کے ساتھ   سرمایہ کاری کے حوالے سے اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ عبدالرشید چنامیڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ

اپنا تبصرہ بھیجیں