حکومت نے اسلام آباد کی حدود میں انصار الاسلام کے داخلے پر پابندی لگادی

حکومت نے انصار الاسلام کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
نمائندہ اے آر وائی نیوز ذوالقرنین حیدر کے مطابق نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انصار الاسلام پر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہوسکتی ہے، وفاق کو یقین ہے انصار الاسلام عسکری تنظیم بن چکی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق انصار الاسلام ملیشیا کے طور پر اسلام آباد میں کارروائیاں کرسکتی ہے، مذکورہ تنظیم کے خلاف کارروائی آرٹیکل 256 کے تحت کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انصار الاسلام کے کارندے، لاٹھیوں اور تیز دھار آلات سے مسلح ہوتے ہیں، تنظیم کے کارندے قیام امن کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
وٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو بھی انصار الاسلام کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی گئی ہے، انصار الاسلام تربیت یافتہ اور مسلح تنظیم ہے آزادی مارچ میں استعمال ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب محکمہ جیل خانہ جات نے اہلکاروں کی چھٹی پر پابندی لگادی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی جیل خانہ جات نے احکامات جاری کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ مذہبی جماعتوں کے اسلام آباد میں دھرنے کا امکان ہے، ممکنہ احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے اہلکار تیار رہیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل حکومت نے جےیوآئی کی فورس انصار الاسلام کےخلاف کارروائی کافیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انصارالاسلام کی فورس کااسلحے سےلیس ہونا بھی خارج از امکان نہیں اور ان کی سرگرمیاں اسلام آباد اور صوبوں کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ یاد رہے کہ انصار الاسلام کے خلاف آرٹیکل 146 کے تحت وزارت داخلہ کو صوبوں سے مشاورت کا اختیار دے دیا گیا تھا اور آرٹیکل 256 اور 1974 ایکٹ کے سیکشن 2 کے تحت پابندی عائد کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں