اب حکومت سے ریلیف کا طلبگار نہیں ہوں،معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے

سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت سروسز اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کا علاج جاری ہے۔اسپتال منتقلی کے بعد نواز شریف کا پہلا بیان سامنے آیا ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا۔عدالت سے قانونی ریلیف آئینی حق ہے۔قانونی جنگ لڑوں گا۔حکومت سے ریلیف کا اب طلبگار نہیں ہوں۔
نواز شریف نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا۔میرا یقین کامل ہے۔عدالتوں سے انصاف ملے گا۔
جب کہ دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مرض کی ابتدائی تشخیص کر لی گئی، معالجین کی جانب سے ان میں پلیٹ لیٹس کی کمی کی وجہ تِلّی کی خرابی قرار دی گئی ہے. نواز شریف کا طبی معائنہ کرنے والے میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا ہے کہ تلی کے بے ترتیب کام کرنے کی وجہ سے پلیٹ لٹس ٹوٹ رہے ہیں، جس کی دوا شروع کرادی گئی ہے، 3 سے 4 دن میں بہتری آ جائے گی. سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کے طبی معائنے کے لیے تشکیل کردہ 6 رکنی میڈیکل بورڈ کے سربراہ اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں نواز شریف کی صحت کے بارے میں آگاہ کیا‘انہوں نے بتایا کہ نوازشریف کے طبی معائنے میں کراچی سے آئے ہوئے ڈاکٹر طاہر شمسی بھی شامل تھے، مرض کی ابتدائی تشخیص کرلی گئی ہے. پروفیسر محمود ایاز نے بتایا کہ نواز شریف کی تلی کے بے ترتیب کام کرنے کی وجہ سے پلیٹ لٹس ٹوٹ رہے ہیں، ایک دوا شروع کرا دی گئی ہے، تاہم دوسری دوا پورے جسم کے اسکین کے بعد شروع کرائی جائے گی‘انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ تین سے چار روز میں نواز شریف کی طبیعت میں بہتری آجائے گی. دوسری جانب نواز شریف کے پورے جسم کے اسکین کے لیے انہیں آج پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ لے جائے جانے کا امکان ہے.سروسز ہسپتال کے ذرائع کے مطابق انہیں صبح 9 بجے ناشتہ کرا دیا گیا تھا، اب پیٹ کا ٹیسٹ ہونے تک انہیں پانی اور کھانا نہیں دیا جائے گا‘نواز شریف کی بیماری کی مزید تشخیص کے لیے ان کے پیٹ کا اسکین بھی کیا جائے 

اپنا تبصرہ بھیجیں