تحقیق کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے قومی اور بین الاقوامی تعاون سے تعلیمی نصاب کو جدید بنانے کی اہمیت

پہلی بین الاقوامی کانفرنس”دوا سازی  کا  تحقیقی  نقطہ نظر” کلیہ دوا سازی، جامعہ ہمدرد نے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیاتی و حیاتیاتی علوم اور سائنسی و تکنیکی مرکز معلومات پاکستان (پاسٹک) کے تعاون سے  23  اکتوبر 2019  کو جامعہ ہمدرد کے مرکزی کیمپس میں  ” علوم  دوا سازی  کا  تحقیقی نقطہ  نظر۔ صنعتوں میں بنتی ہوئی  نئی مثالیں  اور تعلیمی  تعاون ”  کے موضوع پر پہلی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ پاکستان اور دنیا کے دوسرے ممالک کی معتبر اور مستند جامعات سے شرکت کرنے والے جن مہمانوں نے تقریب کے وقار میں اضافہ کیا  ان میں ڈاکٹر راجر فلپ (ہالینڈ)، پروفیسر ہشام السعیدی  (سویڈن)، قومی جامعات اور سنعت دوا سازی کے معززین شامل تھے۔ محترمہ سعدیہ راشد، امیر جامعہ ہمدرد نے اپنے خطاب میں کثیر الجہتی پلیٹ فارم سے باہمی تعاون کے ساتھ تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر سید شبیب الحسن اور رئیس کلیۂ دوا سازی ڈاکٹر اظہر حسین نے بھی کانفرنس کے موضوع کے حوالے سے تقریب سے خطاب کیا۔ شریک رئیس علوم دوا سازی ڈاکٹر شمیم اختر نے تحقیق کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے قومی اور بین الاقوامی تعاون سے تعلیمی نصاب کو جدید بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ پروفیسر سعید (جامعہ پشاور)، پروفیسر ڈاکٹر  نوید  (جامعہ اسلامیہ، بہاولپور)، پروفیسر ڈاکٹر اکرام شیخ، سربراہ سائنسی و تکنیکی مرکز معلومات پاکستان، پروفیسر ڈاکٹر راحیلہ، رئیس کلیۂ دواسازی جامعہ کراچی، پروفیسر اقبال اظہر، پروفیسر ڈاکٹر فیاض وید، صنعت دوا سازی و حفظان صحت کے اداروں کے نمائندوں نے بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں