کراچی میں پانج تفریحی پارک ، چھ واٹر پارکس ، دس منی پلے لینڈ اور آٹھ آڈیٹوریم / اسپورٹس اسٹیڈیم ہیں

تفریح / واٹر پارکس اور منی پلے ایریا پر واجب الادا ٹیکس ادا کرنا چاہئے۔ مکیش کمار چاو ¿لہ کراچی 24 اکتوبر۔ سندھ کے وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول اور پارلیمانی امور مکیش کمار چاو ¿لہ نے کہا ہے کہ تمام تفریحی مقام ، واٹر پارکس ، منی پلے لینڈ (انڈور پلے ایریاز) ، آڈیٹوریم اور اور کھیلوں کے اسٹیڈیموں کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جانا چاہئے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے اور ان سب کو قانون کے مطابق ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ یہ بات انہوں نے آج اپنے دفتر میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول عبدالحلیم شیخ ، ڈائریکٹر جنرل شعیب احمد صدیقی اور دیگر افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول شعیب احمد صدیقی نے بتایا کہ کراچی میں پانج تفریحی پارک ، چھ واٹر پارکس ، دس منی پلے لینڈ اور آٹھ آڈیٹوریم / اسپورٹس اسٹیڈیم ہیں جبکہ حیدرآباد میں ایک تفریحی پارک موجود ہے۔ ، ٹھٹھہ میں دو واٹر پارکس اور ایک واٹر پارک ٹنڈو آدم میں ہے۔ مکیش کمار چاو ¿لہ نے ڈائریکٹر انٹرٹینمنٹ سے کہا کہ وہ ان جگہوں کا مکمل سروے کریں اور ٹیکسوں کی وصولی کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے مزید کہا ، ‘کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور ہر ایک کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور جو ٹیکس ادا نہیں کرے گا اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی’۔ اجلاس میں ٹیکسوں کی وصولی کی مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول اینڈ پارلیمانی امور مکیش کمار چاو ¿لہ نے ٹیکس وصولی کی صورتحال خصوصا پراپرٹی ٹیکس کو بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات سے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں اور اس مقصد کے لئے تجربے کار ، فعال اور ایماندار افسران کو تعینات کریں۔ ہینڈآﺅ ٹ نمبر 967۔۔۔ایم یو

 سندھ حکومت نے خصوصی افراد کو بااختیار بنانے کے لئے صوبائی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی۔ سید قاسم نوید قمر کراچی 24 اکتوبر۔ سندھ حکومت نے خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ اور ان افراد کو بااختیار بنانے کے لئے صوبائی مشاورتی کونسل کی تشکیل دے دی۔وزیر برائے محکمہ بحالی خصوصی افراد اس کے چیئرمین ہوں گے جبکہ اس محکے کے سکریٹری اس کے وائس چیئرمین ہوں گے۔ سندھ اسمبلی کے چار ارکان سیدہ ماروی فصیح ، ندا کھوڑو ، رانا انصار اور نسیم راجپر اس کے ممبر ہیں۔ سندھ حکومت کے مختلف محکموں کے سترہ ایڈیشنل سیکرٹریز ، محکمہ خصوصی تعلیم کراچی اور سندھ یونیورسٹیوں کے چیئرپرسن ، غیر سرکاری تنظیموں اور ایف پی سی سی آئی کے نمائندے اور خصوصی افراد اور بحالی کے شعبے میں ماہرین بھی اس کے ممبر ہیں۔ مشاورتی کونسل ہر دو ماہ میں کم از کم ایک بار اجلاس منعقد کرے گی اور حکومت کو خصوصی افراد کے حوالے سے پالیسیاں ، قانون سازی اور منصوبوں پر مشورے دے گی۔ وزیر اعلٰی سندھ کے معاون خصوصی برائے محکمہ بحالی خصوصی افراد سید قاسم نوید قمر نے خصوصی افراد کو بااختیار بنانے کے لئے صوبائی مشاورتی کونسل کے تشکیل کو حکومت سندھ اور محکمہ بحالی خصوصی افراد کا ایک عظیم کارنامہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ذاتی دلچسپی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی قابل قیادت کی وجہ سے ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنی اس امید کا اظہار کیا کہ مذکورہ مشاورتی کونسل خصوصی افراد کو بااختیار بنانے کیلئے یقینی طور پر صحیح سمت میں کام کرے گی اور ان خصوصی افراد کے حقوق کا تحفظ کریے گی اور ان کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے بہترین قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ ہینڈآﺅ ٹ نمبر 968۔۔۔ایم یو 

اپنا تبصرہ بھیجیں