برطانوی پارلیمنٹ نے بریگزیٹ کے لیے حکومتی ٹائم ٹیبل مسترد کر دیا

غیرملکی خبررساں ادارے کےمطابق برطانوی ارکان پارلیمان نے ایک بار پھر حکومت کی جانب سے بریگزیٹ معاہدے   کو مسترد کردیا ہے، ارکان کی اکثریت نے یہ کہہ کر بل کو مسترد کردیا کہ 3روز کے دوران 110صفحات پر مبنی بریگزیٹ معاہدے کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔ بل کی مخالفت میں 322 اور حق میں 308 ووٹ ڈالے گئے۔ ووٹنگ کے بعد یورپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ وہ یورپی یونین کے رہنماؤں کو 31 اکتوبر کی بریگزیٹ ڈیڈ لائن میں توسیع کی حمایت کرنے کی سفارش کریں گے ۔مسٹر جانسن نے ایک قانون جس میں یورپی یونین کو تین ماہ کی توسیع کا  مطالبہ کیا گیا تھا تحریر کیا تھا لیکن اس خط پر دستخط نہیں کیے۔اس سے قبل جانسن کا کہناتھاکہ اگر وہ ووٹنگ میں ناکام ہوئے تو وہ اپنی بریگزیٹ ڈیل کو اسکریپ کرکے نئے انتخابات کی جانب بڑھیں گے۔ پارلیمنٹ میں شکست کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہاکہ ہمیں اب مزید غیر یقینی کی صورتحال کا سامنا ہوگا اور یورپی یونین نے سوچ لیا ہوگا کہ اب تاخیر کیلئے پارلیمان کی درخواست پر کیسا ردعمل دینا ہے۔ اگر اس ہفتے انتخابات کا آغاز ہونا ہے تو انہیں   28 نومبر جمعرات کو ہونا ضروری ہے کیونکہ قانون کے تحت پارلیمنٹ میں انتخابات بلانے اور انتخابات کے دن کے درمیان 25 دن درکار ہوتے ہیں۔دوسری جانب برطانوی اپوزیشن جماعت کے رہنما جیرمی کوربین نے جانسن سے تمام ارکان پارلیمنٹ کو ساتھ لیکر چلنے پر زور دیا تاکہ بریگزیٹ کیلئے کسی موزوں ٹائم ٹیبل پر اتفاق کیا جاسکے

اپنا تبصرہ بھیجیں