نقص امن کے خدشہ پر جے یو آئی اعلیٰ قیادت کوتحویل میں لینے ، نظر بند ی پر غور

جمعیت علماء اسلام(ف)کی اعلیٰ قیادت کو نقص امن وعامہ کے خدشہ کے پیش نظرتحویل میں لئے جانے اور نظر بند کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے ، حتمی فیصلہ حکومتی بڑوں کا گرین سگنل ملنے پرکیا جائیگا۔ٹاپ حکومتی عہدیداروں نے روزنامہ 92نیوز کو بتایا کہ اس حوالے سے حکومت کی ٹاپ قیادت میں ایک مشاورت ہو چکی ہے ،مولانا فضل الرحمٰن اور انکی جماعت کی اعلیٰ قیادت نے حکومتی مذاکراتی دعوت کو شرائط کے دائرے میں رکھ کر اسلام آباد پرمارچ لانچ کرنے کی کوشش کی تو انہیں تحویل میں بھی لیا جا سکتا ہے اور نظربندبھی کیا جا سکتا ہے ۔جمعیت علماء اسلام کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کرینگے لیکن مارچ ضرور لانچ کرینگے ۔حکومت مذاکرات کو اسلام آباد مارچ کیساتھ مشروط نہ کرے اور نہ ہی وہ کوئی ایسی شرط مانیں گے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن انکی بنائی گئی کمیٹی کیساتھ مذاکرات کریں جس میں وہ اپنے آئینی ،قانونی اور قابل عمل مطالبات سے آگاہ کریں،بصورت دیگر وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی کسی کوشش سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائیگا۔ٹاپ حکومتی عہدیدروں نے بتایا کہ حکومت کے پاس ٹھوس اطلاعات ہیں کہ فضل الرحمٰن اور انکی جماعت کا مارچ کی آڑ میں خیبر پختونخوا،پنجاب ،اسلام آباد سمیت پورے ملک میں بدامنی پھیلانے کا منصوبہ ہے ۔اسی وجہ سے وہ مذاکرات کو شرائط کے دائرے میں قید کر کے ملک میں گڑ بڑ پھیلانے کے پلان پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام(ف)کی اعلیٰ قیادت کو تحویل میں لئے جانے کی صورت میں کیٹیگری ون لیڈرشپ کو نظربند کیا جا سکتا ہے یا حفاظتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے ،فیصلہ انٹیلی جنس رپورٹس اورلا انفورسنگ ایجنسیز کی رپورٹس کی روشنی میں کیا جائیگاکہ انہیں نظر بند کیا جائے یا حفاظتی تحویل میں لیا جائے ۔ ٹاپ لیڈرشپ میں مرکزی اور صوبائی سینئر قیادت شامل ہو گی جن میں جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن،اکرم درانی،مولانا عطالرحمٰن،حافظ حمد اﷲ،مفتی کفایت اﷲ،اسعد محمود اور دیگر شامل ہونگے ۔دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کو 16ایم پی او کے تحت تحویل میں لیا جائیگا۔حکومت نے اسلام آباد مارچ سے نمٹنے کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں جن میں اول حکمت عملی مذاکرات ہیں ،دوئم فضل الرحمٰن کے اسلام آباد پر چڑھائی پلان پر سٹیٹ کی میڈم فورس کا استعمال ہے جبکہ سوئم اگر وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی کی خلاف ورزی کی گئی تو فوج کی مدد طلب کی جا سکتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں