’آسڑیلیا کیلئے ٹیم منتخب کرتے ہوئے انصاف نہیں کیا گیا

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ دورہ آسڑیلیا کے لیے ٹیم منتخب کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

ایک ایسے مرحلے پر جب دورہ آسڑیلیا کے لیے منتخب ٹیسٹ اور ٹی 20 اسکواڈ پر سوالات کیے جارہے ہیں سینیٹر فیصل جاوید بھی میدان میں آگئے ہیں
یاد رہے کہ وکٹ کیپر سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹائے جانے پر بھی فیصل جاوید نے سوشل میڈیا پر بورڈ کے فیصلے پر شدید تنقید کی تھی، اب ان کا دورہ آسڑیلیا کے لیے منتخب ٹیم پر خیال ہے کہ یہ کسی طور بھی مناسب اور متوازن اسکواڈ نہیں لگتا۔

سینیٹر فیصل جاوید کا خیال ہے کہ ماضی میں آسڑیلیا میں پاکستان کی بڑے ناموں کے ساتھ کھیلنے والی ٹیموں کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا تھا، لگتا ہے کہ مصباح الحق کو یہ سب یاد نہیں، حیران ہوں کہ مصباح خود بطور کپتان دو سال قبل آسڑیلیا میں تین ٹیسٹ ہارنے کے باوجود ایسے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بابر اعظم پر انہیں ترس آرہا ہے، وہ ہمارا ایک اہم بیٹسمین ہے، اور ہم قیادت کا بوجھ ڈال کر اس کے کیرئیر سے کھیلنے جارہے ہیں۔

فیصل جاوید کہتے ہیں کہ مصباح الحق کے فیصلوں میں جھول نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے، انہیں خدشہ ہے کہ فاسٹ بولر نسیم شاہ اور موسی خان کو آسڑیلیا کی سخت کنڈیشن میں بناء کسی منصوبہ بندی کے جھونکا جارہا ہے۔

سینٹر فیصل جاوید جو 2007 اور 2011 کے آئی سی سی ورلڈ کپ کے دوران بطور ریڈیو کمنٹیٹر خدمات انجام دے چکے ہیں، کہتے ہیں کہ آسڑیلیا کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ابھی سری لنکا کی سیریز کے زخم تازہ ہیں، ایسے میں آسڑیلیا میں ٹیم پاکستان کی جانے سے قبل ہی مشکلات عیاں ہیں۔

فیصل جاوید کہتے ہیں کہ سابق کپتانوں محمد حفیظ اور شعیب ملک کو مصباح الحق کا نظر انداز کرنا سمجھ سے باہر ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی دونوں کھلاڑیوں کی قومی ٹیم کو ضرورت ہے، نئے کھلاڑیوں کے نام پر ان تجربے کار کھلاڑیوں کو منتخب نہ کرنا خسارے کا سودا ہوگا