پاکستان کا مستقبل محفوظ بھی ہے اور روشن بھی

کراچی سے رحیم یار خان کے زمینی سفر نے ایک بار پھر میرا یقین محکم کردیا ہے کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ بھی ہے اور روشن بھی۔ شہر وسعتوں سے ہم کنار ہورہے ہیں۔ ہریالی بھی بڑھ رہی ہے۔ مارکیٹیں بھی پھیل رہی ہیں۔ نوجوانوں کے چہرے تمتما رہے ہیں۔ بزرگوں کی پیشانیاں دمک رہی ہیں۔ شاہراہوں پر ٹرالر، ٹرک مال مصنوعات سے بھرے سینکڑوں کی تعداد میں ایک طرف بڑے ضبط سے مسافت طے کررہے ہیں۔ کہیں کوئی کارخانے چل رہے ہیں جو ملک کی ضروریات کی پیداوار میں مصروف ہیں۔ تب ہی ٹرکوں پر سامان لدا ہے۔ بعض طویل ٹرالروں پر تو کارخانوں کی مشینری بھی سفر کرتی دکھائی دیتی ہے۔ سڑک جہاں صنعت کی روانی اور فراوانی کے مظاہر پیش کرتی ہے وہاں سڑک کے دونوں طرف فصلیں لہلہا رہی ہیں۔ کہیں کیلے کے پودوں کے سلسلے ہیں، کہیں کپاس کے۔ رنگا رنگ اوڑھنی میں ہماری بیٹیاں مائیں روئی چُن رہی ہیں۔ کہیں روئی چنی جا چکی۔ کپاس کے پودے کاٹ کر گدھا گاڑیوں پر لادے جارہے ہیں۔ گندم کی بوریوں کے ڈھیر، ان پر ترپالیں پڑی ہوئیں۔ کسی ٹرک پر تازہ تازہ چنی روئی لدی ہے۔ اس میں سے بنولہ بھی نکلنا ہے۔ بنولے کا تیل بھی۔ شہروں کی آبادیاں بڑھ رہی ہیں۔ عام دکانوں کے ساتھ ساتھ شاپنگ سینٹر، موبائل فون کی مارکیٹیں، جوتوں، کپڑوں، کھانے پینے کے سارے نئے برانڈز بھی پہنچ چکے ہیں۔ روایتی دکانوں کی جگہ بڑے بڑے شیشوں والے شو روم، وردیوں میں سیلز مین۔

مجھے تو یہ ساری گہما گہمی، چہل پہل دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے۔ ایک گو نہ دلی تسکین۔ مایوسی کے دیوتا جو رات دن تباہی بربادی کا واویلا مچا رہے ہوتے ہیں ان کی اپنی آنکھیں، ان کے کیمرے کی آنکھیں شاید یہ ہریالی، یہ رونقیں نہیں دیکھ سکتیں۔ محنت کشوں کے بازوئوں کی توانائیاں ان کو نظر نہیں آتیں۔ ان کے ماتھوں پر عزم کے مشاہدے سے وہ معذور ہیں۔

رحیم یار خان کے ایک ہال میں نوجوان طلبا و طالبات، بزرگوں کا اجتماع ہے۔ شہر میں جو بھی کسی شعبے کی اہم شخصیت ہے، یہاں موجود ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب، ڈپٹی کمشنر جمیل احمد جمیل، شیخ زید میڈیکل کالج کے پرنسپل، پروفیسر ڈاکٹر ظفر حسین تنویر، اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ربانی، خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر احمد، چیمبر آف کامرس کے چوہدری افتخار، شہر کے کالجوں، اسکولوں کے سربراہ، رحیم یار خان ادبی فورم کے صدر جبّار واصف۔ موضوع ہے: ’پاکستان کو کامیاب ملک بنانے میں آپ کا علاقہ کیا کردار ادا کرسکتا ہے‘۔ پنجاب کے 18سے 28سال کے نوجوانوں نے اس موضوع پر مضامین لکھے ہیں۔ اقبالؔ نے کہا تھا