جناح اسپتال میں 54ویں سالانہ میڈیکل سمپوزیم کا آغاز

پاکستان کے سرکاری اسپتالوں بشمول جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں دنیا کی بہترین طبی سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں لیکن ہمیں اپنے سرکاری اداروں کی امیج بلڈنگ اور بہتر مارکیٹنگ کی ضرورت ہے۔

جناح اسپتال میں 54ویں سالانہ میڈیکل سمپوزیم کا آغاز
جناح اسپتال کراچی میں سائبر نائف، پیٹ اسکین اور سرجری کی بہترین سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ پاکستان سوائے ڈاکٹروں کے ہر چیز درآمد کرتا ہے ہمیں اپنے سرکاری طبی اداروں پر مریضوں کے اعتماد میں اضافہ کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار کمشنر کراچی افتخار علی شلوانی نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے 54ویں سالانہ میڈیکل سمپوزیم کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سمپوزیم میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے ایک ہزار مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔

جناح اسپتال میں 54ویں سالانہ میڈیکل سمپوزیم کا آغاز
پانچ روز تک جاری رہنے والے سمپوزیم کے دوران 36ورک شاپس منعقد کی جائیں گی اور ملک بھر سے آئے ہوئے ڈاکٹروں کو میڈیکل سائنس میں ہونے والی جدید پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔

سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے جناح اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر حسن منظور زیدی، مشہور سوشل ورکر اور راشدآباد میموریل ویلفیئر آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹو ایئر کموڈور ریٹائرڈ شبیر احمد خان، کانفرنس کے چیئرمین پروفیسر شاہد رسول، سمپوزیم کے سیکریٹری ڈاکٹر سُریندر داوانی نے بھی خطاب کیا۔

جناح اسپتال میں 54ویں سالانہ میڈیکل سمپوزیم کا آغاز
اس موقع پر پروفیسر طارق محمود، پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر اے آر جمالی، جے پی ایم سی کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور ریٹائرڈ پروفیسرز بھی موجودتھے۔

کمشنر کراچی افتخار شلوانی کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت دنیا کی جدید ترین طبی سہولتیں فراہم کرکے جناح اسپتال کی انتظامیہ نے سندھ اور ملک بھر کے اسپتالوں کے لیے ایک مثال قائم کردی ہے اور اب دیگر اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ جناح اسپتال کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر مریضوں کے لیے جدید طبی سہولتوں کی فراہمی ممکن بنائیں۔

بعد ازاں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ کراچی میں اگلی پولیو مہم دسمبر میں شروع ہوگی، جس کے دوران انکار کرنے والے والدین اور گھروں پر نہ ملنے والے بچوں کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا جائے گا۔

جناح اسپتال میں 54ویں سالانہ میڈیکل سمپوزیم کا آغاز
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں 7سے 8 ہائی رسک یونین کونسلز ہیں جن پر خصوصی توجہ دی جائے گی، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں کچرا اٹھانے کی مہم جاری رہے گی جبکہ آوارہ کتوں سے نمٹنے کے لیے سائنسی طریقہ کار اپنا کر ان کی تعداد میں کمی لائے جائے گی۔

سمپوزیم کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی اور جناح اسپتال کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پرفیسر حسن منظور زیدی کا کہنا تھا کہ جناح اسپتال گزشتہ ایک عشرے سے حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے جس کی وجہ سے اسپتال میں ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کی شدید کمی ہے جبکہ دوسری طرف مریضوں کا دباؤ روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔

ان تمام نامساعد حالات کے باوجود جناح اسپتال کی انتظامیہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت طبی سہولتوں میں بے پناہ اضافہ کیا ہے جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

جناح اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمیں جمالی نے اس موقع پر جناح اسپتال کی طبی خدمات پر ایک مفصل رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ گزشتہ 12سال سے وسائل کی کمی کے باوجود گزشتہ سال جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں 5لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔

پندرہ لاکھ سے زائد مریضوں کو او پی ڈی میں طبی سہولتیں فراہم کی گئیں، 33ہزار سے زائد مریضوں کے آپریشن کیے گئے، جبکہ اسپتال کے گائنی وارڈ میں 20 ہزار سے زائد بچوں کی پیدائش ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں ہونے والی قدرتی آفتو ں سے نمٹنے کا بہترین اسپتال ہونے کے ناطے پاکستان کے مخیر حضرات اور ادارے جناح اسپتال میں طبی سہولتوں میں مدد دینے میں پیش پیش رہے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت اسپتال میں سائبر نائف، پیٹ اسکین، ملٹی پرپز سرجیکل کمپلیکس اور دیگر بہترین طبی سہولتیں فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جناح اسپتال میں اس وقت طبی عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے، اگر اسپتال میں طبی عملے کی کمی پوری کر دی جائے اور مزید وسائل مہیا کر دیے جائیں تو ان کی کارکردگی مزید بہتر ہوجائے گی۔

مشہور سوشل ورکر اور راشد آباد میموریل ویلفیئر آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹو ایئر کموڈور ریٹائرڈ شبیر احمد خان نے بتایا کہ راشد آباد ٹنڈو الہیار کے پاس ایک ماڈل ایجوکیشن سٹی ہے، راشد آباد کو بنانے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ یہ کام دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے کر رہے تھے اس لیے آج ان کا ادارہ دنیا بھر میں تعلیم و صحت کے اعتبار سے ایک مثال کے طور پر جانا جاتا ہے۔

انہوں نے اس موقع پر نوجوان ڈاکٹروں کو تلقین کی کہ وہ دوسروں کے لیے جئیں اور اپنی صلاحیتوں کو دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کریں