حمید ہارون کے خلاف الزام – کتنی حقیقت کتنا فسانہ ؟

حمید ہارون کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی ایک شرمناک مہم کے حوالے سے یہ بحث ہورہی ہے کہ اس مہم کے پیچھے کون ہے اور وہ کیا چاہتا ہے ؟
میڈیا حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ کافی عرصے سے مخصوص عناصر حمید ہارون اور ان کے میڈیا گروپ کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا لیکن حمیدہارون اور ان کے گروپ کے خلاف کوئی ایسی بات سامنے نہیں لا سکے جس کی بنیاد پر ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا جا سکتا ۔ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی پرانے کے خواہشمندوں کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی اس لیے اب ان کے خلاف میں ٹو مہم کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور اسے مخصوص انداز سے میڈیا ٹرائل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔
حمید ہارون اور ان کا میڈیا گروپ پاکستان میں صحافت کی پہچان اور صحافت کا ایک معتبر نام اور انتہائی معتبر ادارہ ہے ۔
سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ حمید ہارون اور ان کے میڈیا گروپ کے خلاف چلائی جانے والی شرمناک مہم کسی ایک شخصیت یا ایک میڈیا گروپ کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف سازش ہے اس کے بہت دور رس اور منفی اثرات ہو سکتے ہیں لہذا اسے بہت احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے جذبات کی رو میں بہنے اور معاملے کی حساسیت اور سنجیدگی کو سمجھے بغیر اس پر بات کرنا یا اس کو آگے بڑھانا مزید نقصان دہ ہوسکتا ہے اس طرح ان مخصوص عناصر کے مقاصد پورے ہو سکتے ہیں جو اس طرح کی منفی مہم کو فروغ دینا چاہتے ہیں ۔
آزادی صحافت میں بات کرنے کی آزادی ضرور ہونی چاہیے اس کی وکالت بھی کی جانی چاہیے لیکن کسی کی شخصیت اور کسی کے ادارے کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے اور اگر کسی کے پاس کوئی ٹھوس شواہد یا حقائق پر مبنی کچھ واقعات ہیں تمہیں میڈیاٹرائل کی بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہئے اور اس بات کا یقین رکھنا چاہیے کہ آزاد عدلیہ کی موجودگی میں انصاف ملے گا