انسداد ڈینگی پروگرام نے ڈسٹرکٹ ریسپانس کمیٹیاں بنا دیں، ڈینگی کے مریضوں میں مچھردانیاں دینے کا بھی آغاز

محکمہ صحت سندھ کے انسداد ڈینگی پروگرام نے ڈسٹرکٹ ریسپانس کمیٹیاں بنا دیں، ڈینگی کے مریضوں میں مچھردانیاں دینے کا بھی آغاز کر دیا۔

انسداد و تدارک ڈینگی پروگرام کے منیجر ڈاکٹر محمود اقبال کے مطابق یہ کمیٹیاں ڈپٹی کمشنرز کی زیرقیادت ڈینگی کے خاتمے کے لیے کام کریں گی۔ پروگرام منیجر کےمطابق کراچی میں ضلع وسطی، جنوبی اور شرقی زیادہ متاثر ہیں، ڈاکٹر محمود اقبال نے بتایا کہ متاثرہ مریضوں کو مچھردانیوں کی فراہمی بھی شروع کر دی گئی ہے، کسی مریض کو مچھردانی نا ملے تو انسداد ڈینگی پروگرام سے رابطہ کریں۔ ڈاکٹر محمود اقبال کےمطابق سندھ بھر کے 108 اسپتالوں میں ڈینگی کی ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی کے حوالے سے پورے پاکستان میں آوٹ بریک کی صورتحال ہے، بہت جلد ڈینگی سے ہونے والی اموات کے کیسز کی تحقیقات بھی کریں گے تاکہ اصل وجہ موت سامنے آسکے۔ 50 فیصد سے زائد اموات ڈینگی کے ساتھ دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ پروگرام منیجر نے کہا کہ ڈینگی سے بچاؤ میں لوگوں کا اپنا بہت اہم کردار ہے۔ لوگ احتیاط کریں۔ ڈاکٹر محمود اقبال نے بتایا کہ اچانک تیز بخار 102یا اس سے زائد، سردرد، جسم، جوڑوں میں درد، نزلہ زکام جیسی علامات دو دن تک رہیں تو ڈاکٹر کو دکھائیں ۔ پروگرام منیجر نےکہا کہ لوگ اپنے گھروں، گلی ، محلوں میں پانی جمع نا ہونے دیں۔ ایک حالیہ سروے میں اے سی کے پانی میں کافی جگہ مچھر کا لاروا ملا ہے، یہ بڑی بریڈنگ سائٹس ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت