پاکستان: دس سال میں سولہ پشتون گلوکارائیں قتل

تحریر: وقار علی شاہ
۱) غزالہ جاوید
ایکیسویں صدی میں کافی فنکاروں کو قتل کیا جا چکا ہیں، یہ سال دو ہزار ساتآٹھ کی بات ہےجب سوات میں جنگ کی لہر جاری تھی، جنگ سے متاثر ہوکر کئی خاندان پختونخوا کی مختلف علاقوں میں ہجرت کرنے پہ مجبور ہو چکے تھے۔ ان خاندانو میں ایک خاندان معروف گلوکارہ غزالہ جاوید کی تھی جوکہ پشاور منتقل ہوچکی تھی۔
غزالہ جاوید کم عمری سے رقص کے ساتھ وابستہ تھی اور اس کے ذریعے وہ لوگوں کی شادیوں اور مختلف تقریبات میں اپنے فن کا مظاہرہ کرکے خوشیاں دوبالا کرتی تھی۔ پشاور جانے کے بعد غزالہ جاوید نے ٹی وی پروگراموں میں حصہ لینا شروع کیا اور سریلی آواز کی بدولت بہت کم عرصہ میں شہرت کی بلندیوں کو چوں لیا۔
“باران” اور “راشہ کنہ” غزالہ جاوید کے وہ گیت تھے جس نے گلوکارہ کو پہچان بخشی تھی اور دنیا کے کونے کونے میں بسے پختون ان کی آواز کے دیوانے ہوگئے تھے اور آج تک ہیں۔
یہ غزالہ جاوید کی فنی سفر کے عروج کا دور تھا، نہ صرف سریلی آواز بلکہ شکل و صورت کی خوبصورتی میں بھی لاجواب تھی۔
سال دوہزار بارہ میں گلوکارہ نے تیئس سال کی عمر میں جہانگیر نامی شخص سے شادی کرلی، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد خاوند نے شوبر کی دنیا چھوڑنے کو کہا لیکن اتنی شہرت پانے کے بعد غزالہ جاوید یہ بات مانننے کو تیار نہیں تھی جس کی وجہ سے دونوں میں علیحدگی آگئی اور اب گلوکارہ کی زندگی خطرے میں پڑگئی۔
سال دوہزار بارہ میں جون کے مہینے کی اٹھارہ تاریخ کو جہانگیر نے غزالہ جاوید کو باپ سمیت پشاور میں قتل کردیا۔
پشتو کے معروف گلوکار نعیم طوری اپنے احساسات کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ پشتون گلوکار پچھلے بیس برس سے انتہائی مشکل حالات سے گزرتے ارہے ہیں کئیوں کو قتل کیا جارہا ہے تو درجنوں فنکار ملک بدر کئے جاچکے ہیں۔ اقتصادی مسائل کی وجہ سے حالات بھی ان کا ساتھ نہیں دیتا، دوسری جانب یہ حساس لوگ اپنے گیتوں میں شرپسند عناصر کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کو جینے نہیں دیا جارہا۔
شرپسند اور دہشت گرد لوگوں کے مقابلے میں عوام فنکار کو سنتے بھی ہے اور پسند بھی کرتے ہیں کیونکہ یہ زندگی اور محبت کی بات کرتے ہیں اسی طرح میڈیا بھی ان کو آسانی سے اپنا لیتی ہے۔
نعیم طوری نے مذید بتایا کہ موسیقی کے ساتھ اقوام کی ثقافت اور زندگی باندھی ہوتی ہے جس قوم سے گیت اور ثقافت چھینی جاتی ہے تو ان کی زبان اور پہچان ختم ہونے لگتی ہے۔
آخر میں نعیم طوری نے یہ بھی فرمایا کہ ابھی بھی جو شاعر یا گلوکار قوم پرستی اور انسان پرستی کی بات کرتا ہے ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔

2) شبانہ
شبانہ سوات کے بنڑ گاوں کی مشہور رقاصہ تھی، یہ وہ فنکارہ ہے جس نے سوات کی جنگ زدہ ماحول میں بھی خوف نہیں کھایا تھا اور اپنے فن سے وابستہ رہی تھی۔ سال دو ہزار نو میں جنوری مہینے کی پہلی تاریخ کو دہشتگردو نے شبانہ کو بے دردی سے قتل کرلیا تھا، مرحومہ کی لاش کو مینگورہ گرین چوک “خونی چوک ” میں ڈال دیا گیا تھا، مقامی لوگوں کے مطابق شبانہ کی لاش کے ساتھ ان کی سی ڈی کیسٹیں بھی رکھی گئی تھی جس سے فنکاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
شبانہ کی قتل کے بعد سوات کے درجنوں فنکار یا تو اپنی گھروں تک محدود رہ گئے تھے یا اپنا علاقہ چھوڑ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں بس چکے تھے۔
استاد گلزار عالم جوکہ پشتو کے معروف ترین اور انقلابی گلوکار ہے۔ اپنے نغموں کی بدولت کئی مرتبہ جیل بھی کاٹی ہے خود دہشتگردوں کی دھمکیوں کا شکار رہا ہے اور آج کل وہ ہجرت کرکے افغانستان میں مقیم ہے۔
گلزارعالم قتل ہونے والے فنکاروں کی حوالے سے اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے کہنے لگے کہ کچھ ایسی قوتیں موجود ہیں جو پشتو زبان اور ثقافت کی ترقی بلکل بھی نہیں چاہتے اس لئے وہ قوتیں فنکاروں کو نشانہ بنا کر قتل کررہے ہیں۔
گلزارعالم نے واضح کیا کہ پشتو ایک ایسی طاقتور زبان ہے کہ جب جب اس کو چھیڑا گیا ہے تب تب اس نے آسمان کی بلندیوں کو چوں لیا ہے۔ مذید بتاتے ہوئے گلزارعالم نے کہا کہ میرا نام بھی اس لسٹ میں شامل تھا جو فنکار، گلوکار اور سیاسی قائدین دہشتگردوں کے نشانے پر تھے، ہمارے بہت سارے دوست شہید کردیئے گئے اور کئی ملک بدر۔
ہارون باچا، سردارعلی ٹکر، عالمزیب مجاہد، ڈاکٹرناشناس، قمرگلہ بی بی اور استاد شاہ ولی سمیت بہت فنکار دوسرے ملکوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے لیکن یہاں پر پشتو زبان کو اور بھی تقویت اور شہرت مل گئی کیونکہ جہاں جہاں یہ فنکار بسنے لگے وہاں سے انہوں نے ایک نئے عزم کے ساتھ پشتو زبان کی تعمیر و ترقی کا قدم اٹھا کر بین الاقوامی سطح پر پہچان دے دی۔
ایک اور سوال کے جواب میں استاد گلزارعالم نے فرمایا کہ کئی ساری حکومتیں آئی اور چلی گئی، ہم نے اپنی حد تک یہ سارے مسائل اٹھائے ہیں اور حکمرانوں کو آگاہ کیا ہے لیکن ہمارے ساتھ صرف وعدے کئے گئے ہیں عملی کام کسی نے نہیں کیا ہے۔
آخر میں گلزار عالم نے فنکار طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم نے اکٹھا ہونا ہے، ہم اگر ایک مٹھی ہوگئے تو یہاں پر زندگی بھی کرلیں گے اور روزگار بھی ۔

3) ایمن اداس
ایمن اداس کا تعلق ضلع مردان کے تحت بھائی گاوں سے تھا، یہ نہ صرف گلوکارہ بلکہ اچھی شاعرہ بھی تھی، طالبنائزیشن کے خطرناک ترین دور میں ایمن اداس نے سر اور تال کو زندہ رکھا، یہ وہ وقت تھا جب فنکار فن کو چھوڑنے لگے تھے اور کچھ تو باہر ملکوں میں جاچکے تھے۔
ایمن اداس ایک تعلیم یافتہ لڑکی اور شاعری پر عبور حاصل تھی، ان کے گاے ہوئے گیت بےشک کم ہے لیکن معیاری ہیں، یہی گانا “زما د مینی نہ توبہ” نے گلوکارہ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔
اس کے ساتھ ساتھ ان کی مشہور گیتوں میں سے “مڑہ شوم اشنا خو پہ جوندو کی اوسم” “بےلوظہ دروغژنہ” اور”جانان راویخوومہ” آج بھی عوام میں مقبول ہیں اور سنے جاتے ہے۔
ایمن اداس کے گانے غم درد اور افسوس سے بھری تھی کیونکہ ان کی ذاتی زندگی مشکلات سے دوچار تھی جس کا اثر ان کے گانوں اور شاعری پر ہوئی تھی۔
انکا فنی سفر بہت ہی مختصر تھا، بتایا جاتا ہے کہ ان کے بھائی نہیں چاہتے تھے کہ ایمن اداس موسیقی سے وابستہ رہے لیکن شہرت پانے کے بعد وہ اسے چھوڑنے کو تیار نہیں تھی جس کے نتیجے میں ایمن اداس کو سال دوہزار نو میں اپریل کی ستائیس تاریخ کو انکے بھائیوں نے پشاور میں قتل کیا تھا۔
معروف موسیقار استاد نذیرگل جوکہ چالیس سالوں سے موسیقی کے ساتھ وابسطہ ہے اور سینکڑوں شاگردوں نے انکے فن سے استفادہ حاصل کیا ہے، ایمن اداس کے بارے میں جب ان سے سوال پوچھا تو کہنے لگے کہ وہ میری شاگردہ تھی اور ایک لائق بچی تھی۔ یقینا ایمن اداس کی کامیابی میں استاد نذیرگل کا اہم کردار تھا، انہوں نے بتایا کہ ایمن اداس کی آواز باقی زنانہ گلوکاراوں میں سے بہت مختلف تھی، انکی آواز میں بیس تھا جو غزل کے لئے بنی تھی۔
استاد دعوی کرتے ہیں کہ ایمن اداس کو سروں پر عبور حاصل تھا اور لاجواب گلوکارہ تھی۔
موسیقار نذیر کہتے ہے کہ اسکی آواز میں اقبال بانو اور فریدہ خانم جیسی درد بھری تھی جو لوگوں کو سننے پر مجبور کرتی تھی۔
استاد نذیرگل ایمن اداس کی موت پشتو اداب اور موسیقی کے لئے بہت بڑا نقصان سمجھتے ہیں۔

4) یاسمین گل
سال ۲۰۱۰ میں نومبر کے پچیس تاریخ کو فوک گلوکارہ یاسمین کو کوئٹہ میں قتل کیا گیا تھا، یاسمین گل کے والد نے اسکی قتل کا دعوی یاسمین گل کے شوہر کے بہنوئی پر کیا تھا، یاسمین نے فوک گلوکاری سے شہرت پائی تھی اور افغانستان سمیت مختلف ممالک میں اپنے فن کا مظارہ کرچکی تھی۔
یاسمین گل سریلی آواز کے ساتھ ساتھ خوبصورت بھی تھی، کاکڑئ غاڑی پشتو کے مشہور فوک اصناف میں سے ایک ہے جس کو گلوکارہ مفرد انداز سے گھا کر لوگ پسند کرتے تھے، یاسمین گل نے تقریبا پشتو شاعری کی سارے اصناف پر طبع آزمائی کی تھی اور کامیابی حاصل کی تھی۔
آج کے دور میں پشتو کے زنانہ گلوکاراوں میں سے غزل کی بہت بڑی فنکارہ مینا گل نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب فنکاروں کی قتل کی خبریں سنتی ہو، اس سلسلے میں زیادہ تر زنانہ فنکاروں اور گلوکاراوں کو نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہ بہت بےبس طبقہ ہے جب دیکھو غیرت کے نام پہ قتل کئے جاتے ہیں۔
مینا گل کہتی ہے کہ میں خود بھی مشکالات کی شکار ہوں جب بھی کنسرٹ یا ریکارڈنگ کے لئے نکلتی ہوں تو ڈرلگتا ہے اور ان حالات میں ہم کسی پر بھروسہ بھی نہیں کرسکتے۔ مجھے تو اسلام آباد سے پشاور جانے میں بھی خوف ہوتا ہے لیکن کیا کرے اب تو موسیقی کے ساتھ باندھے گئے ہیں، موسیقی نے پہچان دی ہے اس سے نام کمائی ہے تو چھوڑ بھی نہیں سکتے البتہ یہ بات واضح ہونی چاہیئے کہ عوام کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور فنکار تو اقوام کے سفیر ہوتے ہیں تو حکومت انکو تحفظ دینا یقینی بنائے

5) گلناز عرف مسکان
پشاور صدر کے قریب رہنے والی پشتو زبان کی ایک اور گلوکارہ گلناز عرف مسکان کو سال ۲۰۱۴ کے جون مہینے کی انیس تاریک کو پشاور میں قتل کیا گیا تھا، پولیس ذرائع کے مطابق واقع اس وقت پیش آیا جب گلناز رات کو موسیقی کی ایک محفل سے واپس گھرلوٹ گئی۔ اس موقع پر گلناز کے ساتھ انکی بہن، بھائی اور بہنوئی بھی موجود تھے لیکن صرف گلناز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
گلناز عرف مسکان کی بہن نے اسکی قتل کا دعوی گلوکارہ کے پہلے شوہر ارشد خان پر کی تھی، گلناز نے کچھ ذاتی مسائل کی بناء بر خاوند سے طلاق لی تھی۔

6) مسرت
پشتو سی ڈی ڈراموں کی اداکارہ مسرت ۲۰۱۵ میں اگست کی اٹھارہ تاریخ کو نوشہرہ میں قتل کی گئی تھی، یہ واقع تب رونما ہوا جب اداکارہ گھر کے لئے کچھ سامان خریدنے اپنی گاڈی میں بازار چلی گئی، اس موقع پر مسرت کے ساتھ اسکی والدہ بھی گاڈی میں سوار تھی۔
نوشہرہ کے شوبرہ چوک پہنچنے پر موٹرسائیکل سواروں نے انکی گاڈی پر فائرنگ کرلی جس کے نتیجے میں اداکارہ شدید اور والدہ معمولی زخمی یوئی، دونوں کو جلدی ہسپتال منتقل کردیا گیا لیکن زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے مسرت زندگی کی بازی ہار گئی۔
پولیس کو بیان دیتے ہوئے اداکارہ کی ماں نے واضح کیا کہ مسرت کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی اور پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلی

7) درویش
یہاں پر نا صرف زنانہ بلکہ نارینہ فنکاروں کو بھی قتل کئے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ مارے جانے والے گلوکاروں میں ایک نام درویش کا بھی ہے، یہ صوابی کا رہنے والا تھا اور بیس سال سے موسیقی کے ساتھ وابستگی تھی۔
میدانی موسیقی پروگراموں میں درویش ایک جانا پہچانا نام تھا جس نے استاد احمد گل سمیت مشہور گلوکاروں کے ساتھ بڑے بڑے تقریبات میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ مقامی سطح پر درویش بہت مقبول گلوکار تھے، علاقے کے لوگ درویش کی آواز اور موسیقی کے بغیر اپنی شادیاں وغیرہ ادھورے سمجتھے تھے،
درویش عاجز طبعیت اور ملنگ انسان تھے فنی سفر میں پشتو ٹپے اور مصرعے گانے کی منفرد انداز سے اس نے نام کمایا تھا، آج بھی انکے گیت شوق سے سنے جاتے ہیں۔
سال ۲۰۱۶ کے نومبر کی ایک رات جب درویش ایک موسیقی کی محفل سے اپنے گھر واپس لوٹ رہا تھا تو بام خیل بائی پاس کے پاس نامعلوم افراد نے قتل کردیا۔
استاد احمد گل پچھلے ساٹھ سالوں سے فن موسیقی سے وابستہ ہے، ہم نے ان سے درویش کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو کہنے لگے کہ درویش میرے ساتھ چند محافل میں شریک ہوئے تھے، احمد گل فرماتے ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ درویش کو گانا گانے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہو، ہو سکتا ہے کہ انکو کسی ذاتی معاملات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہو۔
استاد نے درخواست کی کہ فنون لطیفہ کے لوگ محبت والے لوگ ہوتے ہیں اگر انکا کسی کے ساتھ ناراضگی ہے تو صلح کردینا چاہیئے نا کہ زندگی گنواہ بیٹھیں

8)انعم عرف انوشے
انعم سباء کا تعلق ضلع مردان کے کاٹلنگ گاوں سے تھا، انعم ۱۹۹۳ء میں مارچ کی پچیس تاریخ کو سلطان محمود کے گھر پیدا ہوئی تھی، شوپز کے ساتھ بچپن سے لگاو تھا، خاندان والو کی جانب سے مسائلے مسائل پیش آنے کے باوجود بھی انعم ڈٹی رہی، رقص اور اداری کی میدان میں بہت کم عرصہ میں نام کما لیا۔
لیکن یہاں انکو بھی شہرت راس نہ آئی اور چوبیس سالہ انعم کو سال ۲۰۱۷ میں مارچ کی ۱۴ تاریخ کو اسلام اباد میں قتل کیا گیا، اداکارہ کی جست خاکی کو گاوں لایا گیا تو خاندان والوں نے میت لینے سے انکار کردیا تو مقامی سماجی کاکنوں نے رات کی تاریکی میں سپردخاک کردیا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے پراپرٹی دیلر سردارشفقت انعم کی قتل میں ملوث پایا گیا ہے، ڈیلر نے انعم کو ایک ذاتی محفل میں مدعو کیا تھا پروگرام ختم ہونے کے بعد جب اداکارہ نے ان سے پیسے مانگے تو انہوں نے انکار کردیا جس پر انعم نے قانونی کاروائی کرنے کی دھمکی دے دی۔
دھمکی کے نتیجے میں پراپرٹی ڈیلر سردار شفقت نے اپنے دوستوں کے ہاتھوں انعم کو قتل کردیا، پولیس کی بروقت کاروائی کے دوران دو ملزمان افتخار اور شیرباز کو گرفتار کرلیا گیا تھا، تفتیش کے دوران شیرباز نے واضح کیا کہ انکو اس کام کے لئے بڑی رقم کی لالچ دی گئی تھی۔
انعم عرف انوشے کی قاتلوں میں سردار جاوید، سردار اعجاز، وقار اور چوھدری قیصر کے نام بھی شامل ہے۔

9) بریخنا
سن دوہزار اٹھارہ کے جنوری مہینے کی نو تاریخ کو بریخنا نامی فنکارہ کو قتل کیا گیا تھا جس کا تعلق پشاور کے یکہ توت علاقے سے تھا، اس وقع میں بریخنا کے ساتھ انکا والد بھی فوت ہوگئے۔
بریخنا کی قتل کا دعوی انکے ایک عاشق علی آفریدی پر کیا گیا تھا جو فنکارہ سے شادی کے خواہشمند تھے، لیکن بریخنا کے گھر والے علی آفریدی کے ساتھ انکی شادی کرانے رضامند نہیں ہورہے تھے جس کے نتیجے میں بریخنا کو والد سمیت قتل کیا گیا،
بریخنا ایک اچھی رقاصہ تھی اور مقامی سطح پر کافی مقبولیت حاصل تھی، سٹیج پرفارمنس کے لئے بریخنا کو ایک منفر پہچان حاصل تھی اور بے شمار مداح دور دراز علاقوں سے انکی پرفارمنس دیکھنے آتے تھے۔

10) سنبل
مردان سے تعلق رکھنے والی ۲۲ سالہ فنکارہ سنبل کو بھی سال ۲۰۱۸ فروری کے تین تاریخ کو شیخ ملتون ٹاون میں قتل کی گئی تھی، یہ واقع تب پیش آیا جب سنبل کو ایک نجی محفل میں شرکت کے لئے دعوت دی گئی اور اس نے انکار کردیا۔
سنبل کے خاندان والوں نے انکے قتل مین تین ملزمان جہانگیر، نقیب شاہ اور سابق پولیس آفیسر نعیم خٹک کو ملوث ہونے کا دعوی کیا ہے جن کے خلاف موقع پر ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔
سنبل ایک سال کے بچے کی ماں تھی۔
سنبل بہت اچھی ماڈل اور ڈانسر تھی جس نے بےشمار ویڈیو گانوں میں اپنے فن کا لوہا منوایا تھا، غربت کی وجہ سے فنکارہ کارئے کے گھر میں رہ رہی تھی اور خوشحال زندگی بسر کر رہی تھی لیکن بےحسوں نے ان سے انکی زندگی کا حق بھی چھین لیا۔

11) ریشما
یہاں پر فنکاروں کو قتل کرنے کا سلسلہ ابھی تھما نہیں ہیں، ۲۰۱۸ میں اگست کی پہلی تاریخ کو ایک اور کلوکارہ ریشما کو نوشہرہ کالاں میں بےدردی سے قتل کیا گیا، ریشما نا صرف سریلی آواز کی ملکہ تھی بلکہ بہت خوبصورت بھی تھی۔
ریشما فنی سفر میں بلکل نئی تھی، ایک سال کے دوران ریشما نے پشتو میوزک انڈسٹری میں شہرت کی بلندیوں کو چوں لیا تھا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق انکی شادی کو ایک سال ہوا تھا اور شادی بھی میاں بیوی کی محبت اور رضامندی سے ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد دوںوں کے درمیاں تلخیاں ابھرنے لگی جس کی وجہ سے ریشما بھائی کے گھر رہنے پر مجبور ہوگئی تھی۔
انکے شوہر فائدہ خان دوبئ میں مزدوری کررہے تھے وطن واپسی پر بیوی کے ساتھ راضی نامہ کیا تھا لیکن ریشما کے بھائی عبداللہ یہ راضی نامہ ایک دھوکہ سمجھتے ہیں۔
عبداللہ نے بتایا کہ فائدہ خان نے ریشما کو اپنے والد کی عیادت کے بھانے اپنے گھر لے گئ اور وہاں پر اسکو قتل کرلیا۔
ریشما گلوکاری کے ساتھ ساتھ ماڈلنگ بھی کرتی تھی اور مختلف ممالک میں جاکر فن کا مظاہرہ کرچکی تھی۔

12) سونیا خان
سونیا خان پشاور کی مقامی رقاصہ تھی، اپنی رقص سے لوگوں کی شادیوں اور دیگر تقریبات کو چارچاند لگاتی تھی، مقامی سطح پر بہت مقبول تھی اور اس مٹی پر کم از کم دس پندرہ سالوں کی خدمات کا احسان تھا۔
مصدق خان جو کہ چارسدہ کا رہنے والا تھا سونیا خان کے ساتھ پرانا تعلق تھا، درمیان میں ناراضگیاں آتی رہی لیکن جب تلخیاں بڑھ گئی تو سال ۲۰۱۸ نومبر کی دس تاریخ کو مصدق نے سونیا پر فائرنگ کرکے قتل کردی۔
پوسمارٹم کے بعد پولیس نے میت کو ورثاء کے حوالے کیا اور ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلی۔

13) لبنیٰ عرف گلالئی
پشتو سی ڈی ڈراموں، فلم اور سٹیج کی کم عمر، حسین اور مشہور اداکارہ لبنیٰ عرف گلالئی
کو اسی سال فروری کی ۲۱ تاریخ کو مردان میں قتل کیا گیا تھا۔ نیوز رپورٹس کے مطابق گلالئی اپنے خاوند سے ناراض ہوکر بہن کے گھر پشاور رہ رہی تھی۔
اسکی بہن زرقا نے بتایا کہ گلالئی کے شوہر عمران نے بیوی کو منانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ نہیں مان رہی تھی، زرقا نے مزید کہا کہ فروری کے پندرہ تاریخ کو عمران کے قریبی دوست شاہ حسین، فضل مالک اور نواب پشاور آئے اور گلالئی کی منتیں کی کہ عمران آپ کے ساتھ سارے تنازعات ختم کرنا چاہتا ہے اس لئے ہمیں یہاں بھیج دیا ہے۔
زرقا کے مطابق گلالئی انکی بات مان گئی اور گھر واپس جانے پر رضامند ہوگئی، زرقا نے انکشاف کیا کہ یہ لوگ گلالئی کے ساتھ مختلف تقریبات میں نظر آتے تھے اور ان میں سے ایک دوست ایسا بھی تھا جو گلالئی کو ان کے خاوند کے ساتھ صلح پے خوش نہیں تھے۔
مردان پولیس نے ان میں سے شاہ حسین اور فضل مالک کو گرفتارکرلیا تھا اور پولیس انسپکٹر زاھد خان نے میڈیا کو بتایا تھا کہ گلالئی کو انصاف ضرور ملےگا۔ پولیس انسپکٹر نے باقی ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی تھی۔
۲۰۱۹ جولائی کی سولہ تاریخ کو ڈسٹرکٹ پولیس مردان کی جانب سے جاری کئے گئے پریس ریلیز میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ گالئی کو قتل کرنے والا مرکزی ملزم نواب ولد محمد اقبال کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے۔
معروف اداکار و ھدایت کار طارق جمال عرف روخانے ماما کہتے ہیں کہ گالئی نے انکے ساتھ ایک ڈرامے میں کام کیا تھا، انہوں نے بتایا کہ گلالئی لائق فنکارہ تھی لیکن ذاتی مسائل سے دوچار تھی۔ طارق جمال نے کہا کہ پشتون اداکارائیں شادی کے بعد مختلف مسائل کے شکار ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں وہ اکثر فن سے ہاتھ دھو بیھٹتی ہے یا زندگی سے۔
انسانی حقوق کی سماجی کارکن گلالئی اسماعیل اداکارہ کی قتل کا شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور کہتی ہے کہ فنکاروں کی قتل میں اکثر بڑے بڑے لوگ ملوث ہوتے ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ لوگوں کو انصاف نہیں ملتی۔
گلالئی اسماعیل نے سوال اٹھا کہ کیا یہ فنکار اس معاشرے کا حصہ نہیں ہے؟ ان کو تحفظ دینا کس کی ذمہ داری ہے؟ فنکار ثقافت کو فروغ دیتی ہے۔ اگر ہمارے فنکار محفوظ نہین ہیں تو میں اپنے ثقافت کو کیسے محفوظ سمجھوں؟؟؟

14) ثناء عرف نیلم
پشاور میں رواں سال مئی کی تین تاریخ کو پارٹی میں رقص سے انکار پر مشہور رقاصہ نیلم اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل ہوچکی ہے۔
پولیس کے مطابق بشیر آباد میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں 35 سالہ رقاصہ ثناء عرف نیلم اپنے شوہر عبدالرؤف نے رقص نہ کرنے پر قتل کردیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کا شوہر اسے ڈانس پارٹیوں میں رقص کرنے پر مجبور کرتا تھا، کل رات شوہر سے لڑائی جھگڑے کے بعد خفا ہو کر جا رہی تھی کہ شوہر نے فائرنگ کردی۔
تھانہ فقیر آباد کی پولیس کے مطابق مقتولہ کے تین بچے ہیں جنہوں نے واقعہ کی تفصیل پولیس کو بتائی ہے جس کے بعد پولیس کی مدعیت میں اس کے شوہر عبدالروف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

15) مینا خان
مینگورہ بنڑ گاؤں کی رہائشی گلوکارہ و رقاصہ مینا خان کو اپنے شوہر شوکت نے اسی سال مئی کی سات تاریخ کو قتل کیا تھا۔ مینا خان نے بہت ویڈیو گانے ریکارڈ کئے تھے اور مقامی سطح پر مقبول تھی۔
تھانہ بنڑ کے ایس ایچ او طارق علی نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واقع روزے کے پہلے دن افطاری کے قریب پیش آیا، اس کا کہنا کہ میاں بیوی کے درمیاں پیسوں کا کوئی مسئلہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے شوکت نے مینا خان پر فائرنگ کرکے قتل کردیا اور فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔
مینا خان کو پوسمارٹم کے لئے سیدوشریف ہسپتال منتقل کیا تھا اور بعد میں میت کو ورثاء کے حوالے کردیا، پولیس نے دفعہ ۳۰۲ کے تحت شوکت پر قتل کا مقدمہ درج کیا تھا اور واقعہ کے چار دن بعد پقلیس انکو پکڑنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
ملزم نے اعتراف جرم کرلیا ہے۔

16) ثناء خان
سوات کی ایک اور گلوکارہ ثناء خان کو اپنے بھائی نے چھریوں کے وار سے ہلاک کیا۔ اٹھارہ سالہ ثناء مینگور کے بنڑ گاوں کی رہنے والی تھی، سوات پولیس کے مطابق ثناء پر اپنے بھائی قاسم نے چھریوں کے وار کئے تھے جس کے نتیجے میں وہ جان سے چلی گئی۔
زخمی حالت میں پولیس کو بیان دیتے ہوئی ثناء نے بتایا کہ جمعے کی شب ایک تقریب میں شرکت کرنے بٹخیلہ گئی تھی اور گھر واپس آنے پر بھائی نے چھریوں کے وار کردیئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گلوکارہ کے ماں کی شادی پنجاب کے فیصل آباد میں ہوئی تھی لیکن شادی کے دس سال بعد میاں بیوی کے درمیاں جدائی آئی تھی۔
ثناءخان اپنی والدہ کے ساتھ سوات میں رہ رہی تھی بلکہ بھائی قاسم والد کے ساتھ فیصل آباد میں رہ رہا ہے۔ قاسم کبھی کبھی ماں کو ملنے سوات جاتا تھا لیکن اس بار اپنی بہن ثناء کو قتل کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔
مقامی لوگوں کے مطابق بھائی بہن کے درمیان پیسوں کے معاملے پر جھگڑا ہوا ہے، اسی طرح رواں سال مئی میں ثناء خان کی خالہ مینا خان کو اپنے شوہر نے پیسوِں کی تنازعہ پر قتل کیا تھا۔