کررار پور راہداری کو 9 نومبر کو کھول دیا جائے گا: وزیر اعظم

کررار پور راہداری کو 9 نومبر کو کھول دیا جائے گا: وزیر اعظم
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر کے سکھوں کے لئے اپنے دروازے کھولنے کو تیار ہے، کرتار پور راہداری منصوبہ تکمیل کے آخری مراخل میں ہےاورکررار پور راہداری کو 9 نومبر کو کھول دیا جائے گا، بھارت اور دوسرے ملکوں سے سکھ دنیا کے سب سے بڑے گوردوارہ کی یاترا کریں گے۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ گوردوارہ سکھوں کا مذہبی مرکز بننے کے ساتھ مقامی معیشت کو مضبوط کرے گا،یہ راہداری پاکستان کے لئے ڈالر میں آمدن بڑھانے کا باعث ہوگی اور ٹریولنگ، مذہبی ٹورازم اور مہمانداری کے شعبہ میں بڑے پیمانے پر ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی،بدھ مت کے پیروکار بھی پاکستان میں مختلف مذہبی مقامات پر آتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ سال 28 نومبرکومنصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور 9 نومبرکومنصوبے کا افتتاح ہوگاجبکہ 12نومبرکوبابا گرونانک کا جنم دن منایا جائے گا،ابتدائی مرحلے میں 5 ہزاراوربعد میں 10 ہزاریاتریوں کی آمد اوررہائش ہوگی،پاکستان کا سب سے بڑا گردوارہ بابا گرونانک بیالیس ایکڑاراضی پرمشتمل ہے جبکہ پنجہ صاحب گردوارہ چارایکڑاورننکانہ صاحب گردوارہ چودہ ایکڑ پر مشتمل ہے۔ 9 نومبر کو بھارت سے یاتری آنا شروع ہوجائیں گے،پانچ ہزار یاتریوں کے داخلے اور خروج کے لئے چھیتر امیگریشن کاؤنٹر ز بنا دئیے گئے ہیں جبکہ دس ہزار یاتریوں کی آمدورفت کے لئے کل 152 کاؤنٹر بنائے گئے ہیں، بارڈر ٹرمینل زیرو پوائنٹ سے ساڑھے تین سو میٹر پر تعمیر کیاگیا ہےاور ٹرمینل کے باہر بسوں کے ذریعے گردوارہ تک یاتریوں کو لایا جائے گا اور یاتریوں کو ہوائی اڈے جیسی سہولیات مہیا کی جائیں گے جبک دریا راوی کا رخ موڑنے کے لئے ایک نہر نکالی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں یاتریوں کے لئے جدید سہولیات سے مزین ٹینٹ ویلیج بنائے جا رہے ہیں،تعمیراتی ایریا دس لاکھ مربع فٹ پر محیط ہے، ہر پاکستانی اور بھارتی سکھ یاتری فنگر پرنٹس کے بعد گردوارہ میں داخل ہوسکے گا جبکہ پیدل یاتریوں کے لئے گزرگاہ بھی تعمیر کی گئی ہے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں