حکومت 400محکمے بند کرنے پر مجبور ہے کہ ہمارے پاس تنخواہیں دینے کے لئے فنڈ نہیں ہیں

فواد چوہدری نے حسبِ عادت یہ بھیانک انکشاف کر ڈالا ہے کہ حکومت 400محکمے بند کرنے پر مجبور ہے کہ ہمارے پاس تنخواہیں دینے کے لئے فنڈ نہیں ہیں۔ کہاں آنے سے پہلے ایک کروڑ نوکریاں، 50لاکھ مکانات کے نعرے اور اس پر ووٹ لینے والی پی ٹی آئی اب نوکریاں دینے کے بجائے نوکریاں ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ بھی ایک نیا یوٹرن کہا جا سکتا ہے۔ اگر چہ پی ٹی آئی کے دیگر افراد اس کی تردید کرتے نظر آرہے ہیں۔ نجانے عمران خان فواد چوہدری جیسے لوگوں کو اب تک صرف اہم عہدوں سے ہٹانے تک کیوں محدود ہیں۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ اُن سب کو منہ بند رکھنے کا مشورہ دیں جو پارٹی کا مذاق اڑواتے ہیں۔ عوام حیران ہیں کہ عمران خان نہ تو تاجر برادری سے مذاکرات کرکے ان کو سڑکوں پر آنے سے روک رہے ہیں، نہ مولانا کے دھرنے کو سنجیدگی سے لے کر اسلام آباد کو سیاسی اکھاڑہ بننے سے روکنے کیلئے کچھ کر رہے ہیں۔ اب تاجر تنظیموں نے بھی 29اور 30اکتوبر کو ملک گیر شٹر ڈائون کا اعلان کر دیا ہے۔ تاجر تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ اب فیصلہ سڑکوں پر ہوگا، ہم ٹیکس چور نہیں ہیں۔ ایف بی آر ٹیکس لینا نہیں چاہتا۔ تاجر تنظیموں نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ہمارا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ سے کوئی تعلق نہیں، ہم 31اکتوبر کو تمام کاروبار، دکانیں، فیکٹریاں کھلی رکھیں گے اور اگر حکومت کو کوئی شک ہے تو وہ ہمارے مطالبات مان لے، ہم ہڑتال کا اعلان واپس لے لیں گے۔ آزادی مارچ کے ساتھ کیا ہونا ہے، اس کا تو ابھی تک پتا نہیں لیکن مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی پارلیمنٹ سے محرومی کا بدلہ عمران خان اور ان کے وزراء کے ہاتھوں کے طوطے اڑا کر لیا ہے۔ عمران خان نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ اپوزیشن کرنا بہت مشکل کام ہے جبکہ حکومت کرنا بہت آسان ہے۔ اس وقت تک عمران خان نے صرف دھرنے دیئے تھے، دھرنے بھگتائے نہیں تھے۔ ایک محاورے کے مطابق تب تک خان صاحب نے اڑتی مکھی کو پھنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ دھرنا اور خاص طور پر لمبا دھرنا دینا بذاتِ خود مشکل کام تھا مگر اب اندازہ ہو رہا ہوگا کہ دھرنا بھگتنا کتنا مشکل کام ہے۔ ابھی تو خیر آزادی مارچ شروع بھی نہیں ہوا اور حکومتی خیمے کی طنابیں ڈھیلی ہوتی جا رہی ہیں، ابھی تو آگے کے مراحل باقی ہیں۔ حکومت کی صورتحال بالکل ویسے ہی ہے، اندر سے ڈری ہوئی ہے اور اوپر سے بہادری دکھا رہی اور گھبرا بھی رہی ہے۔ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے جیل جاکر وہ رونق نہیں لگائی جو مولانا فضل الرحمٰن نے لگا رکھی ہے۔ حکومت کے ڈر کی یہ صورتحال ہے کہ نیشنل گیمز جو 10سال بعد پشاور میں 27اکتوبر کو ہونا تھے، ان کو پھر ایک مرتبہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اب یہ گیمز 9نومبر سے 14نومبر تک ہوں گے۔
-written -by-khalil-ahmed-nainitalwal-published-in-jang

اپنا تبصرہ بھیجیں