عقیل کریم ڈھیڈی، بلڈرز سے ناراض کیوں ؟

اسٹاک شیر مارکیٹ اور تعمیراتی کاروبار میں نام کمانے والے اے کے ڈی گروپ کے سربراہ پاکستان کے مشہور بزنس مین عقیل کریم ڈھیڈی اچانک بلڈرز سے ناراض کیوں ہو گئے ہیں انہیں ایسی کیا شکایات ہیں کہ وہ بلڈرز سے براہ راست بات کرنے کی بجائے مختلف اور اپنی تقاریر کے ذریعے شکایات کا اظہار کرنے لگے ہیں اس بات پر ان کے بلڈر دوست اور بزنس مین حلقوں میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے مختلف سوالات  اٹھائے جارہے ہیں ۔عقیل کریم ڈھیڈی مجموعی طور پر ایک پوزیٹوشخصیت کے مالک ہیں اور سنجیدہ کاروباری مزاج رکھتے ہیں ذہین باصلاحیت اور کامیاب انسان ہیں دوسروں کے ساتھ مخلص عمل مہربان ہیں موجودہ حکومت کے بہت بڑے سپورٹر ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملکی معیشت ترقی کرے ملک آگے بڑھے  تاکہ لوگوں کی زندگی میں آسانی اور خوشحالی آئے ۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ایک پروگرام میں دھواں دار خطاب کیا جسے کا بڑا چرچا ہے وہاں پر ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکس کی شرح میں اضافے کی وجوہات کیا ہے اس پر ہمیں غور کرنا ہوگا ہمارے یہاں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اس سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ اچانک ان کا رخ تعمیراتی صنعت کی جانب مڑ گیا اور وہ کہنے لگے کہ پاکستان میں تعمیراتی شعبوں میں بغیر پلانے کے کام کیا جارہا ہے جنہیں فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے انہوں نے نشاندہی بھی کردی اور کہا کہ سپر ہائی وے پر بڑے پیمانے پر تعمیرات بغیر پلاننگ کے کی جا  رہی ہیں ۔ان کی اس بات کو بحریہ ٹاون کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے ۔اور لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا اے کے ڈی اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان کسی نئی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے مگر واقعی ایسا ہے تو اس کے اثرات کیا ہوں گے ؟ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے کون کس حد تک جاسکتا ہے اگر یہ لڑائی شروع ہوچکی ہے تو پھر یہ لڑائی جلدی ختم نہیں ہوگی بلکہ بہت دور تک جا سکتی ہے ۔ عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا تھا کہ شہریوں کو پہلے پندرہ سے بیس سال قبل دی گی اسکیموں کو مکمل کیا جائے تعمیراتی  شعبوں میں بغیر پلاننگ کے کام کو روکنے کی ضرورت ہے ۔ دوسری طرف تعمیراتی شعبے میں بہتری لانے کے لیے خود بلڈرز اینڈ ڈویلپرز ایسوسی ایشن آباد کے چیئرمین محسن شیخانی اور ان کے ساتھی دن رات سرگرم عمل ہے انہوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ روکا جائے اگر خدانخواستہ یہاں زلزلہ آیا تو ناقص و غیر معیاری اور غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے دس لاکھ سے زائد شہری موت کے منہ میں چلے جائیں گے ۔بڑے شہروں میں کچی آبادیوں کو پھیلنے سے روکنا ہوگا کسی بھی قسم کی ناگہانی صورتحال اور حادثے میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان کے ذمہ دار سندھ میں براہ راست وزیر اعلی سندھ اور چیف سیکرٹری ہوں گے ۔سستے مکانات اور کم لاگت کے رہائشی منصوبوں کے حوالے سے آباد نے اپنی تجاویز مختلف حکومتی فورسز پر پیش کر رکھی ہیں ان پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے




اپنا تبصرہ بھیجیں