یو بی جی قیادت کا تین سالہ پلان کیا ہے ؟

فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایف پی سی سی آئی میں برسراقتدار یونائیٹڈ بزنس گروپ کی قیادت نے اپنے سرپرست اعلی ایس ایم منیر ،چیئرمین افتخار علی ملک ،سیکرٹری جنرل زبیر طفیل ،سینیٹر الیاس احمد بلور ،تنویر احمد شیخ، میاں محمد ادریس ،کینیڈا چیپٹر کے چیئرمین نوید بخاری ،سینیٹر عبدالحسیب خان ،طارق حلیم کی موجودگی اور منظوری سے پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے حکومت کو تین سالہ پلان دینے کا اعلان کیا تھا اور یہ تین سالہ پلان 2020 کے لیے صدارتی امیدوار ڈاکٹر نعمان بٹ ،2021 کے لیے صدارتی امیدوار خالد تواب  اور 2022 کے لیے صدارتی امیدوار سے الطاف نے مشترکہ طور پر تیار کرنا تھا ۔یہ سال ان کو ایک مہینہ گزر گیا نعمان بٹ اور ان کے ساتھی اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ملک بھر میں رابطے کر رہے ہیں اور دعوتیں   اڑا رہے ہیں ۔یوگی جی کیا امیدوار ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی کامیابی کو یقینی نظر آرہی ہے لیکن رسمی کاروائی کے دور پر وہ سب شہروں کی اہم شخصیات سے رابطہ کر رہے ہیں ملاقات کر رہے ہیں اور انہیں الیکشن میں اپنی حاضری یقینی بنا کر ان کے ووٹ کی درخواست کر رہے ہیں ۔یو بی جی کے دیگر رہنما ہوں میں سید مظہر علی ناصر  ،سمیع  خان ملک سہیل حسین ، شاہین الیاس سروانہ ،مرزا اختیار بیگ،حنیف گوہر  ،نور احمد خان ،سہیل الطاف ،ریاض الدین شیخ ،حمید اختر چڈ ھا ،بشیر جان محمد ،حاجی افضل ،زاہد شنواری ،حاجی افتخاد ،ریاض ارشد ،عبدالرؤف مختار ،غضنفر بلور ،یحیی پولانی ،زاہد لطیف خان گلزار فیروز سمیت تمام بڑے بڑے نام یو بی جی کی فتح کے لیے سرگرم ہیں ۔سوال یہ ہے کہ وہ تین سالہ پلان کہاں ہے جس نے ملکی معیشت کو بہتری کی جانب گامزن کرنا ہے ؟کیا یہ تین سالہ پلان صرف ایک انتخابی نعرہ ہے ؟کیا یو بی جی تھی قیادت واقعی 3سالہ پلان دینے میں سنجیدہ ہے ؟کیا یہ پلان انتخابات سے پہلے منظر عام پر لایا جائے گا یا الیکشن کے بعد تک التوا  میں رکھا جائے گا ؟اب تک کیوں بھیجی رہنماؤں کو حکومت سے یہ شکایت رہی ہے کہ تمام ملکی معاشی معاملات میں وعدوں کے باوجود حکومت نے ایف پی سی سی آئی کی قیادت سے مشاورت نہیں کی جس کی وجہ سے مسائل پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ حکومت لبریشن سے تمام معاملات میں مشاورت کرے ۔یو بی جی کی اعلیٰ قیادت نے جس تین رکنی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا اس کی ذمہ داری لگائی گئی تھی کہ وہ نہ صرف حکومت سے رابطہ کرے گی بلکہ بزنس کمیونٹی کی جانب سے ملنے والی تجویز کو ایک جگہ کرکے مکمل معاشی پلان ترتیب دی گئی اور اسے حکومت کے سامنے پیش کرے گی ۔اس کمیٹی نے اب تک ہونے والے اپنے اجلاسوں یا پیشرفت سے میڈیا کو آگہی نہیں دی یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ملک کے کن حصوں سے کن کن شعبوں میں نے تجاویز پیش کی ہیں مسائل اجاگر کیے ہیں یا تعاون نہیں کیا ۔اگر سب نے تعاون کرتے ہوئے اپنی تجاویز اور مسائل سے ایک کمیٹی کو آگاہی دے دی ہے تو پھر اس پلان کو ترتیب دینے میں اب دیر کس بات کی ہے ؟صنعتکار تاجر برادری کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ مہنگے کردے ملکی معیشت کے لیے نقصان دے ہیں اگر قرضہ لینا ناگزیر ہے تو سستے ڈونرز سے لیا جائے اس حوالے سے ایک میٹھی کے پاس کیا تجاویز موصول ہوئی ہیں اور کمیٹی نے کیا متبادل تلاش کیے ہیں ؟ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت پاکستان کا مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہیے مگر مسلسل قرضہ لینے کی وجہ سے یہ قرضے جی ڈی پی کا 65 فیصد سے تجاوز کر چکے ہیں اور زیادہ شرح سود سے قرضہ لینا ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ اس طرح ترقی کا اثر زائل ہو جاتا ہے حکومت ٹیکسیشن سسٹم کو بہتر بنائے اس کے لئے ایک کمیٹی کی تجاویز مرتب کر رہی ہے کیونکہ آمدنی میں اضافے کا بہترین ذریعہ بہتر ٹیکسیشن سسٹم ہے ۔ماہرین اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شرح ٹیکس میں اضافے کی وجوہات پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت ہے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی شعبوں میں بغیر پلاننگ کے جو کام ہو رہے ہیں انہیں روکنے کی ضرورت ہے جبکہ دمیاطی صنعت سے وابستہ شخصیات کا کچھ اور مو قف ہے ۔جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب لوگ کام کرتے ہیں منافع کماتے ہیں اور ٹیکس نہیں دیتے تو اس کا بوجھ ٹیکس دینے والوں پر پڑتا ہے اس میں بہترین آنے کی ضرورت ہے ۔



اپنا تبصرہ بھیجیں