کے فور منصوبے کی لاگت27 سے 150ارب روپے پہنچ جانا شرمناک ہے

کے فور منصوبے کی لاگت27 سے 150ارب روپے پہنچ جانا شرمناک ہے: الطاف شکور12 سالوں میں ایم کیو ایم اور پی پی پی کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں عوام کو ایک بوند بھی پانی نہیں ملاکراچی کے شہریوں کے ساتھ بھیانک مذاق بند کیا جائے، کراچی کو چارٹر سٹی بنایا جائےسندھ کے شہروں کی لٹیرا شاہی اور دیہاتوں کی وڈیرہ شاہی نے مفادات لوٹ کر عوام کوبد حال کر دیاپانی کی فراہمی کے اس سب سے بڑے منصوبے میں لاپرواہی اور غفلت برتنے والوں کو بے نقاب کر کے سزا دی جائےپاسبان کا مطالبہ ہے کہ چیف سیکریٹری سندھ کو لکھے گئے ٹرانسپیرنسی سٹی انٹرنیشنل کے خط کی اعلی سطحی تحقیقات کی جائیں کراچی  ( )  پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئر مین الطاف شکور نے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں کے لئے بنائے گئے سب سے بڑے پانی کے منصوبے K4 کی لاگت کا 27ارب روپے سے بڑھ کر 150ارب روپے تک پہنچ جانا اور کراچی کے شہریوں کو 12سالوں میں ایک بوند بھی پانی نہ ملنا، پی پی پی اور ایم کیو ایم گٹھ جوڑ کا شرمناک انجام ہے۔ کراچی کے شہریوں کے ساتھ بھیانک مذاق، قومی وسائل پر لوٹ ماراور لاپرواہی بند کی جائے۔ کراچی کو دنیا کے بڑے اور ترقی یافتہ شہروں کی طرز پر “چارٹر سٹی”کا آئینی درجہ دیا جائے۔ اب بھی وقت ہے ارباب اختیار جاگ اٹھیں اور کراچی کے شہریوں کو ان کا حق دیں۔ سندھ کے شہروں کی لٹیرا شاہی اوار دیہاتوں کی وڈیرہ شاہی نے اپنے مفادات لوٹے اور عوام کو بدحال سے بد تر کردیا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے چیف سیکریٹری سندھ کو لکھے گئے خط کا فوری نوٹس لیا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے الطاف شکور نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں۔ کام اور کاروبار پر جانے کے بجائے مرد، عورتیں اور بچے پانی کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ پائپ لائنوں کا نظام بوسیدہ اور ناکارہ ہو چکا ہے۔ واٹر ٹینکر مافیا نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ ان حالات میں K4 منصوبے کی 12 برسوں کی دردناک کہانی کا منظر عام پر آنا انتہائی شرمناک ہے۔ منصوبے کے روٹ اور ڈیزائن میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔ 2007 میں حکومت سندھ نے اس منصوبے کے لئے جو زمین الاٹ کی وہ 2014 میں ونڈ پاور ملز کو کیوں الاٹ کر دی گئی؟ منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے تقرر میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے قواعد کی خلاف ورزیاں کیسے ہوئیں اور کس نے کیں؟ کچی کینال منصوبے میں ناکامی کے باوجود نیسپاک کو بنا بولے K4منصوبے کا ایوارڈ کیسے دے دیا گیا؟ ستمبر 2018میں کس کے کہنے پر منصوبے کا کام بند کر دیا گیا؟ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ ان تمام الزامات اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے خط کی روشنی میں فوری اور با اختیار طریقے سے تحقیقات کی ضرورت ہے تا کہ اس اہم منصوبے میں سنگین غفلت اور لاپرواہی کے مرتکب تمام عناصر کو بے نقاب کر کے عدالت کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں